تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 376
تاریخ احمدیت - جلد ۵ فصل دوم 372 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد یه تحریک آزادی کا دوسرا دور (۱۹۰۹ء تا ۶۸۱۹۲۰) حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الله ت خلیفہ المسیح الثانی کا پہلا سفر کشمیر۱۹۰۹ء تعالٰی اپنے زمانہ خلافت سے پانچ سال حضرت قبل میں سال کی عمر میں کیم جولائی ۱۹۰۹ء کو پہلی بار کشمیر تشریف لے گئے اور ۲۲ / اگست ۱۹۰۹ء تک قیام پذیر رہے۔اسی دوران میں آپ ناسنور بھی تشریف لائے۔اللہ تعالی نے آپ کو فطری طور پر مظلوموں اور بیکسوں کے لئے ایک مضطرب اور حساس دل عطا فرمایا ہے دوران قیام کشمیر میں آپ کی آنکھوں نے کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کے ایسے ایسے نظارے دیکھے کہ آپ فرط غم سے آبدیدہ ہو گئے اور آپ میں اہل کشمیر کی آزادی کے لئے زبردست جذبہ پیدا ہو گیا چنانچہ خود ہی فرماتے ہیں۔میں چھوٹا تھا کہ ہم سرینگر جاتے ہوئے ایک گاؤں میں سے گذرے اس وقت موٹریں نہ تھیں ٹانگوں پر جاتے تھے۔گاؤں والوں سے ہم نے مرغ مانگا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا اس گاؤں میں تو و با پڑی تھی اور سب مرغ مرگئے میرے چھوٹے بھائی بھی غالبا حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ناقل) بھی میرے ساتھ تھے جن کی عمر اس وقت تیرہ سال کی تھی وہ ایک گھر میں گھس گئے اور واپس آکر کہا کہ اس میں چالیس سے زیادہ مرغ ہیں میں نے سمجھا بچہ ہے غلطی لگی ہوگی لیکن پاس ہی صحن تھا میں نے جو ادھر نظر کی تو واقعی صحن مرغوں سے بھرا ہوا تھا۔میں نے جب گھر والے سے پوچھا تو اس نے کہا یہ تو ہم نے نسل کشی کے لئے رکھے ہوئے ہیں اتنے میں ایک اور ساتھی نے آکر کہا قریباً سب گھروں میں کثرت سے مرغ موجود ہیں۔آخر گاؤں والوں نے بتایا کہ بات یہ ہے کہ سرکاری آدمی آتے ہیں اور بغیر پیسہ دیئے ہمارے گھر اجاڑ کر چلے جاتے ہیں اس لئے ہر سفید پوش کو سرکاری آدمی سمجھ کر انکار کر دیتے ہیں۔ایک دفعہ میں پہلگام گیا۔ریاست کا اس وقت قانون تھا کہ بوجھ اٹھانے کے لئے اگر آدمی کی ضرورت ہو تو تحصیلدار کو چٹھی لکھی جائے چنانچہ میں نے چٹھی لکھی مزدور آگئے اور بوجھ اٹھا کر چل پڑے دور جا کر میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک آہیں بھر رہا ہے اور کراہ رہا ہے میں چونکہ جانتا تھا کہ کشمیری مزدور بوجھ بہت اٹھاتے ہیں اس لئے اس کے کر اپنے پر مجھے حیرت ہوئی اور کہا