تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 375 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 375

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 371 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اختیار کرلی اور اس کے اجلاس لاہور امرتسر گوجرانوالہ سیالکوٹ ، گجرات ، جہلم اور راولپنڈی میں بھی ہوئے۔اور ۱۹۱۱ء سے ۱۹۲۳ء تک خان بہادر شیخ غلام صادق صاحب آنریری اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر امرت سر خان بهادر خواجہ یوسف شاہ صاحب ممبر لیجسلیٹو اسمبلی پنجاب نواب سربلند جنگ بہادر حاجی مولوی حمید اللہ خان صاحب سابق چیف جسٹس حیدر آباد دکن۔خان بہادر نواب خواجہ محمد اعظم خان صاحب رئیس اعظم ڈھا کہ میاں فیروزالدین صاحب آنریری مجسٹریٹ و رئیس اعظم امرت سرادر شیخ عطا محمد صاحب بی۔اے ایل ایل بی وکیل پبلک پراسیکیوٹر گجرات رئیس اعظم گوجرانوالہ نے ان اجلاسوں کی بالترتیب صدارت کی ۱۹۲۴ء میں یہ مجلس سرینگر میں اپنا اجلاس کرنا چاہتی تھی مگر معتمد وزیر امور خارجہ ریاست جموں وکشمیر نے اطلاع دی کہ سال رواں میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔۱۹۲۴-۲۵ء میں اس کے یہ عہدیدار تھے۔(۱) شیخ عطا محمد صاحب بی۔اے ایل ایل بی پریذیڈنٹ سٹریل سٹینڈنگ کمیٹی (۲) سید محسن شاہ صاحب بی۔اے ایل ایل بی بیرسٹرایٹ لانو ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور آنریری جائنٹ سیکرٹری (۳) خواجہ فیروز الدین احمد صاحب بی۔اے بیرسٹرایٹ لاء ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور - آنریری جائنٹ سیکرٹری - (۴) منشی محمد الدین صاحب فوق ایڈیٹر شمیر کی اخبار لاہور آنریری اسسٹنٹ سیکرٹری۔(۵) خواجہ غلام نبی صاحب آنریرکی فنانشل سیکرٹری۔(۶) خواجه صدرالدین صاحب آنریری آڈیٹر - اس تنظیم نے کشمیری خاندانوں کے ہو نہار مگر نادار بچوں پر ہزاروں روپے صرف کئے ۱۹۱۷ء تک اس کانفرنس نے شمالی کشمیر میں ۱۲- ۳ مدرسے اپنے خرچ پر جاری کئے اور کشمیر کے بعض ہو نہار طلبہ کو وظائف دیگر کالجوں کی تعلیم بھی دلوائی۔۱۹۳۱۱ء میں جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو اس کے سب عہدیداروں خصوصا سید محسن شاہ صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی ہائیکورٹ لاہور اور منشی محمد الدین صاحب فوق نے کشمیر کمیٹی سے خاص طور پر تعاون کیا اور اپنی خدمات اسکے مقاصد کی تکمیل کے لئے پیش کر دیں۔فجزاهم الله احسن الجزاء اس زمانہ میں آل انڈیا کشمیری کانفرنس" کے علاوہ " آل انڈیا محمدن ایجو کیشنل کانفرنس " (جس کے جائنٹ سیکرٹری عرصہ تک صاحبزادہ آفتاب احمد خاں صاحب بی۔اے رہے) مسلمانان کشمیر کے تعلیمی مسئلہ کی طرف خاص دلچسپی لیتی رہی۔