تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 374
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 370 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ملازموں کی نہیں ہے لیکن ہم حافظہ سے بہت سے نام گنارے سکتے ہیں (اس کے بعد بارہ مسلمانوں کے نام لکھ کر تیرھواں نام حضرت مولوی نور الدین صاحب حکیم اعلیٰ " کا لکھا اور آپ کے بعد چند نام مزید لکھنے کے بعد تحریر کیا کہ مولوی نور الدین صاحب حکیم اعلیٰ وغیرہ جیسے بزرگ اور قدیم اور ہر دلعزیز عمدہ دار کی نسبت صرف یہ امر قابل بیان ہے کہ ان کے نکالنے کے واسطے گاؤ کشی کا الزام تجویز کیا گیا تھا کیونکہ اور کوئی بہانہ نہیں مل سکتا تھا اخبار چودھویں صدی نے اس مضمون کے بعد اہل کشمیر کی حق تلفیوں پر مسلسل مضامین لکھے جن میں ریاستی اعداد و شمار سے اصل حقائق پر روشنی ڈالی اور ان مسلمان ملازموں کی فہرستیں شائع کیں جو حکومت کشمیر کی ظالمانہ کارروائی کا شکار ہوئے تھے۔اخبار چودھویں صدی کے بعد جناب تاج الدین صاحب تاج نے ۱۹۰۱ء میں گلشن کشمیر کے نام سے کشمیر کے صحیح حالات کی ترجمانی کے لئے ایک ہفت روزہ شروع کیا۔۱۹۰۶ء میں منشی محمد الدین صاحب فوق نے رسالہ کشمیری میگزین جاری کیا۔۱۹۱۳ء سے یہ رسالہ کشمیری اخبار کی صورت میں ۱۹۳۴ء تک چھپتا رہا۔اس رسالہ و اخبار نے باشندگان کشمیر کی آواز بلند کرنے میں قریباً ربع صدی تک نا قابل فراموش خدمات سرانجام دیں۔ان اخبارات کے بعد تحریک آزادی کشمیر میں جن اخباروں نے نمایاں حصہ لیا ان میں اخبار انقلاب- مسلم آؤٹ لک - سیاست - سن رائز (لاہور) - جماعت احمدیہ کا انگریزی ترجهان اخبار الفضل اور اخبار فاروق ( قادیان) خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور خصوصاً الفضل - ( قادیان) نے تو اس سلسلہ میں ایسا مستند اور مفصل ریکارڈ محفوظ کر دیا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر پر قلم اٹھانے والا کوئی مورخ اس سے بے نیاز نہیں ہو سکتا !! شروع شروع میں صحافت نے جو اہل کشمیر کے تحفظ حقوق کے لئے انجمنوں کا قیام آواز بلند کی اس پر عملی قدم اٹھانے کے لئے مجلس کشمیری مسلمانان لاہور کے نام سے ۱۸۹۶ء میں پہلی انجمن قائم ہوئی جس کے بانیوں میں سے میاں کریم بخش صاحب رئیس اعظم لاہور ان کے فرزندان میاں شمس الدین صاحب و میاں نظام الدین صاحب و میاں جلال الدین صاحب مولوی احمد دین صاحب بی۔اے پلیڈ ر - خواجہ رحیم بخش صاحب بی۔اے اور ڈاکٹر محمد اقبال صاحب تھے اس مجلس نے ڈیڑھ سال تک کام کیا۔یکم دسمبر ۱۹۰۱ء کو اس تنظیم کا احیاء "مسلم کشمیری کانفرنس" کے نام سے ہوا۔اور اس کے جنرل سیکرٹری میاں شمس الدین صاحب اور پریذیڈنٹ میاں کریم بخش صاحب مقرر ہوئے۔1911 ء میں آل انڈیا مسلم کشمیری کا نفرنس" کی بنیاد پڑی جو ملک گیر تنظیم تھی جس نے جلد ہی ملک گیر صورت