تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 14
تاریخ احمدیت۔جلده 14 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال پہلے تحقیقاتی کمیشن کا تقرر یکم جنوری ۱۹۱۹ء میں نظار توں کا قیام عمل میں آیا تھا۔اس وقت سے لے کر اب تک اگر چہ نظار میں اپنے ماتحت دفاتر کی نگرانی کے فرائض انجام دے رہی تھیں لیکن (خلیفہ وقت کے علاوہ خود نظارتوں کے کام کی نگرانی کرنے والا کوئی ادارہ نہ تھا۔اس لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپریل ۱۹۲۸ ء میں پہلی بار ایک تحقیقاتی کمیشن مقرر فرمایا۔جو چوہدری نعمت اللہ خان صاحب سب حج دہلی۔پیراکبر علی صاحب وکیل فیروز پور اور چوہدری غلام حسین صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس کرنال پر مشتمل تھا۔اور اس کے ذمہ یہ کام کیا کہ وہ سارے دفاتر کا معائنہ کر کے رپورٹ کرے کہ ” دفاتر کا عملہ کم ہے اور کام زیادہ ہے یا عملہ زیادہ اور کام کم ہے نظارتوں کے فرائض پورے طور پر ادا ہوتے ہیں یا نہیں ؟ اور ارشاد فرمایا کہ " یہ دوست معائنہ کرنے کے لئے اپنی فرصت اور سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے خود تاریخ مقرر کرلیں۔اور اس کی اطلاع نظارتوں کو دے دیں۔چوہدری نعمت اللہ خان صاحب کو اس کمیٹی کا پریذیڈنٹ مقرر کیا جاتا ہے وہ مناسب موقع پر دوسروں کو جمع کر لیں لیکن جب کسی دفتر کا معائنہ کرنا ہو تو اسے لکھ دیں۔تاکہ وہ تیاری کرے"۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مبارک کے مطابق اس کمیشن کو جنوری ۱۹۲۹ء کے آخر میں ایک ہفتہ معائنہ کر کے رپورٹ پیش کر دینا چاہیے تھی مگر کمیشن نے اس پر کوئی کارروائی نہ کی۔لہذا حضور نے ۱۹۲۹ء میں دوبارہ کمیشن مقرر فرمایا۔اور پہلے ممبران ہی کو اس کا رکن تجویز فرمایا۔تاوہ اپنی کو تاہی کا کفارہ کر سکیں۔اور اسے معائنہ کے لئے پانچ اہم ہدایات دیں۔کمیشن تحقیقات کرے کہ ناظر اپنے مقررہ فرائض کے منظور شدہ رقم میں پوری طرح ادا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ وم کیا نظار تیں ان قواعد کی جو پاس کرتی ہیں اور ان ہدایتوں کی جو انہیں دی جاتی ہیں پابندی کرتی اور کراتی ہیں یا نہیں ؟ کیا نظار میں مجلس شوری کے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کرتی ہیں یا نہیں؟ انجمن کے کارکن اپنے اختیارات ایسے طور پر تو استعمال نہیں کرتے کہ لوگوں کے حقوقی ضائع ہوں؟ - کوئی صیغہ اخراجات کے بارے میں اسراف سے تو کام نہیں لے رہا۔چنانچہ ارکان کمیشن نے اس کام میں کافی وقت صرف کیا وہ دربار محض اسی غرض کے لئے قادیان آئے جہاں انہوں نے لمبی لمبی شہادتیں لیں جو ہزار صفحات سے بھی متجاوز تھیں اور بالآخر بہت چھان