تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 369 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 369

یت - جلد ۵ صاحب لائلپوری چوبرجی۔لاہور) 365 -۴۹ کنز العمال جلد ۲ صفحه ۳۴ مطبوعه ۱۳۱۲ھ حیدر آباد د کن تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۵۰ ملاحظہ ہو کتاب صحائف قمران صفحه ۷۷-۷۹- از محقق عیسائیت شیخ عبد القادر صاحب لائلپوری - طبع اول دسمبر ۱۹۹۰ء۔-۵۱ مسیح کشمیر میں (از محمد اسد اللہ صاحب قریشی صفحہ ۶۷۶۶ ۵۲ متی باب ۵- آیت ۱۷ ۵۳- مسیح ہندوستان میں صفحہ ۷۸-۷۹- از سید نا حضرت مسیح موعود علیه السلام) ۵۴ مسیح ہندوستان میں صفحہ ۵۱ ( از سید نا حضرت مسیح موعود علیه السلام) ۵۵ - الکمال الدین فی اثبات الغیته و کشف الحيره (مولفه الشيخ السعيد ابی جعفر محمد بن علی بن الحسن بن موسی بن بابویہ القمی) صفحه ۲۴۴ و ۲۷۲ ۵۶ ايضا صفحه ۳۶۰ ۵۷ کنز العمال جلد ۶ صفحه ۲۰ او طبرانی بروایت حضرت فاطمتہ الزہراء ۵۸ پادری بہت ایم۔اے نے اپنی کتاب ہندوستان کی تاریخ میں ایک روایت لکھی ہے کہ تھو ما حواری کا شمالی ہندوستان میں جانا بھی ثابت ہے۔ایک روایت میں ہے کہ تھو ما حواری نے حضرت مریم صدیقہ کے سامنے شمال مشرقی ہند کے علاقہ میں اپنے تبلیغی حالات بیان کئے۔مسز فرد ایک عیسائی خاتون کی (جو مدراس میں تھو ما حواری کے مقبرہ پر متعین تھیں) ایک روایت ہے کہ حضرت عینی اور ان کی ماں سب ہندوستان ہی میں تھے۔(جلد اول صفحہ (۴۳) بحوالہ حضرت مسیح کشمیر میں صفحہ ۳۹ از جناب قریشی محمد اسد اللہ صاحب فاضل کا شمیری) ۵۹ طبقات کبیر جلد ۳ صفحه ۲۶ مطبوع ۵۱۳۲۱ ۲۰ تاریخ طبری جلد ۲ صفحہ ۳۹ے (مطبوعه ۱۸۸۱-۱۸۸۲ء) انسائیکلو پیڈیا میں ان تصاویر کے ساتھ مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا گیا ہے۔یہ تصویر روم کے مقدس پطرس کے گرجا میں قدیم یادگاروں میں رکھی ہوئی ہے جو کہ ایک کپڑے پر بنائی گئی ہے تصویر کی تاریخ تخقینی طور پر دوسری صدی عیسوی تک پیچھے جاتی ہے۔-۶۲ اصول کافی کتاب الحجه صفحه ۲۱۵ مطبوعه ایران (کتاب التوحید) چنانچہ دیسی پادری برکت اللہ صاحب ایم۔اے لکھتے ہیں۔حال ہی میں شمالی ہندوستان سے بھی اس قسم کی ملیس ملی ہیں یہ ملیس کشمیر کی قدیم قبروں اور پہاڑوں کی وادیوں سے دستیاب ہوئی ہیں۔ان کی بناوٹ ان کے نقش و نگار اور الواح کی عبارات کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملیس نسطوری ہیں اور قبریں نسطوری عیسائیوں کی ہیں یہ امور ثابت کرتے ہیں کہ قدیم صدیوں میں کشمیر میں بھی عیسائی کلیسا ئیں جابجا قائم تھیں۔اور وہاں نسطوری مسیحی بکثرت آباد تھے۔( تاریخ کلیسائے ہند صفحہ ۱۵۷) یہ علم لسانیات کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک زبان کا لفظ جب دوسری زبان میں آتا ہے تو اس میں اکثر کچھ نہ کچھ تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ میکیس مولر نے اپنی کتاب سیکرڈ آف دی ایسٹ جلد میں اس کی نظیر کے طور پر مثالیں بھی دی ہیں۔۶۵ یه کتاب ۱۱۵ء میں تصنیف ہوئی اور ۱۹۱۰ ء میں مہاراجہ کشمیر سر پر تاپ سنگھ کے حکم سے بھیتی میں بزبان سنسکرت شائع ہوئی۔اس کا ترجمہ شیلو ناتھ شاستری دروان سے کرایا گیا۔باہر سے آنے والی قوم ۶۷- سری نگر سے دس میل کے فاصلہ پر ایک خوبصورت مقام ہے۔۶۸ جیمز پر نسپ لکھتے ہیں راجہ شالبا بن ۷۸ ء میں کشمیر سے رخصت ہوئے۔حضرت مسیح کشمیر میں صفحہ ۴۶) ۲۹ مها بهوشیه پران صفحه ۲۸۰ پر ب ۳ ادھیائے ۲ شلوک ۲۱ تا ۳۱ ۷۔متی کا لفظ بھی معنی خیز ہے۔ا مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو کتاب حضرت مسیح کشمیر میں صفحہ ۵۳ تا ۶۰- ۷۲ ماہنامہ پختر ابو ۱۹۳۶ء بزبان بنگہ (بحوالہ حضرت مسیح کشمیر میں صفحہ ۴۶ ۴۷ مولفہ مولانا محمد اسد اللہ صاحب قریشی الکاشمیری)