تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 359 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 359

تاریخ احمدیت جلد ۵ 355 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ فصل نهم کشمیر میں ڈوگرہ راج دادی کشمیر کے ستم رسیدہ اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم و بربریت اور جبرو تشدد کا اس سے بھی زیادہ ہولناک دور ۱۶/ مارچ ۱۸۴۶ء کے منحوس دن سے شروع ہوا جبکہ انگریزی حکومت نے پچھتر لاکھ روپیہ ایک گھوڑا بارہ بکریوں اور چھ جو ڑا شال سالانہ خراج کے بدلے کشمیر اور دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب کا تمام پہاڑی علاقہ مہاراجہ گلاب سنگھ اور ان کے " جانشین ہائے نرینہ کو دے دیا۔یہ سودا ایک تحریری معاہدہ کی رو سے ہوا جو معاہدہ امرتسر کہلاتا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ یہ خرید و فروخت محض فرضی اور دکھاوے کی تھی کوئی رقم لی دی نہیں گئی۔اب خواہ مذکورہ سودا فرضی ہو یا واقعی بر کیف یہ ایک حقیقت ہے کہ کشمیر میں ڈوگرہ حکومت انگریزوں کی مہربانی سے قائم ہوئی تھی۔اور اس طرح کشمیر کے لکھوکھا مسلمان عملاً فروخت کئے گئے اور غلام بنا دیئے گئے۔اس زمانے میں کشمیر کی مرکزی وادی کو چھوڑ کر کشمیر کا ملک چار بڑی ریاستوں میں منقسم تھا۔جو اپنی طاقت اثر اور وسعت کے لحاظ سے دوسری چھوٹی چھوٹی ریاستوں سے نمایاں تھیں اور یہ چاروں کی چاروں بڑی ریاستیں مسلمان تھیں اور ان کے رئیس اپنے اپنے علاقہ میں خود مختار رئیس تھے۔ان میں سے ایک ریاست بھمبر تھی جو موجودہ اضلاع گجرات اور جہلم کی حدود کے ساتھ ملتی تھی۔دوسری ریاست راجوری تھی۔تیسری کرنا اور چوتھی کشتواڑ - راجہ گلاب سنگھ صاحب ایک زیرک آدمی تھے۔جب انہوں نے یہ دیکھا کہ کشمیر کی مرکزی دادی چاروں طرف سے اسلامی ریاستوں میں گھری ہوئی ہے۔تو انہوں نے ان ریاستوں کو مٹاکر کشمیر میں صرف ایک ڈوگرہ سلطنت قائم کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔اور چونکہ انگریزی حکومت ان کی پشت پناہ تھی اس لئے وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو گئے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے چاروں اسلامی ریاستوں کو ختم کر کے مرکزی حکومت کشمیر میں شامل کر لیا۔کشمیر کی دوسری مسلمان ریاستوں کے بہت ہی قلیل عرصہ میں نابود ہو جانے پر ان کے پسماندگان میں سے کچھ تو اپنے ہی ملک میں دربدر خاک چھانے پر مجبور ہو گئے اور کچھ اپنی عزت و آبرو