تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 12
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 12 خلافت عثمانیہ کا پندرھواں سال کے خانگی درس ہماری جماعت کے گھروں میں جاری ہو جائیں۔تو علاوہ علمی ترقی کے یہ سلسلہ اخلاق اور روحانیت کی اصلاح کے لئے بھی بہت مفید و با برکت ہو سکتا ہے "۔احمدیت کا حال اور مستقبل ۱۶ اپریل ۱۹۲۸ء کو جمعہ تھا اس روز احباب مجلس مشاورت کے سلسلہ میں کثرت سے قادیان آئے ہوئے تھے۔حضرت خلیفتہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے مسجد نوبر کے متصل بڑ کے درخت کے نیچے ایک ولولہ انگیز خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ : ہم بڑ کے درخت کے نیچے یہ مشورے کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ دنیا کس طرح فتح کی جائے۔۔یادرکھیں آج جو سر گوشیاں ہو رہی ہیں ان کا ایسا نتیجہ نکلے گا کہ ساری دنیا پر احمدیت کا جھنڈ الہرائے گا۔لیکن آج کے منظر کی تصویر اگر لے لی جائے اور اسے کوئی آج سے چھ سات سو سال بعد شائع کرے تو اس وقت کے لوگ انکار کریں گے کہ یہ ہمارے بڑوں کی حالت کی تصویر ہے وہ کہیں گے ہم نہیں مان سکتے کہ وہ ایسے کمزور تھے۔اس پر یقین کرنے کے لئے ایک تیز قوت واہمہ کی ضرورت ہوگی۔مگر میں جماعت سے کہتا ہوں ان وعدوں کا مستحق بننے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور اس کے لئے دعاؤں پر بہت زور دینا چاہیئے۔معاملات میں صفائی رکھنی چاہیئے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیئے۔اپنے نفسوں کو قابو میں رکھنا چاہیئے۔آپس میں محبت اور اتحاد کا سلوک کرنا چاہیئے"۔ہم نسواں کے لئے خاص تحریک حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو آغاز خلافت ہی سے احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی و بهبود کا خیال رہا ہے مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء کے موقعہ پر حضور نے نمائندگان جماعت کے سامنے تعلیم نسواں کے لئے خاص تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” میرے نزدیک عورتوں کی تعلیم ایسا اہم سوال ہے کہ کم از کم میں تو اس پر غور کرتے وقت حیران رہ جاتا ہوں ایک طرف اس بات کی اہمیت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ دنیا میں جو تغیرات ہو رہے ہیں یا آئندہ ہوں گے جن کی قرآن سے خبر معلوم ہوتی ہے ان کی وجہ سے وہ خیال مٹ رہا ہے جو عورت کے متعلق تھا کہ عورت شغل کے طور پر پیدا کی گئی ہے۔۔۔دو سری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت کا میدان عمل مرد کے میدان سے بالکل علیحدہ ہے۔۔۔پس ایک طرف عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اور دوسری طرف یہ حالت کہ ان کا میدان عمل جدا گانہ ہے یہ ایسے امور ہیں جن پر غور کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دوسروں کا نقال نہیں