تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 349
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 345 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ پہنے ہوئے تھا۔شالبا ہن نے اس سے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا۔میں یو ساشافت (یوز آسف) ہوں اور عورت کے بطن سے میری پیدائش ہوئی۔(راجہ شالباہن کے حیران ہونے پر) اس نے کہا کہ میں نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے۔اور میں مذہب کو صاف و پاک کرنے کے لئے آیا ہوں راجہ نے اس سے پوچھا کہ آپ کو نسا مذ ہب رکھتے ہیں۔اس نے جواب دیا اے راجہ اجب صداقت معدوم ہو گئی اور میچوں کے ملک (ہندوستان سے باہر کسی ملک) میں حدود شریعت قائم نہ رہی تو میں وہاں مبعوث ہوا۔میرے کلام کے ذریعہ جب گنگاروں اور ظالموں کو تکلیف پہنچی تو ان کے ہاتھوں سے میں نے بھی تکلیفیں اٹھا ئیں۔راجہ نے اس سے پھر پوچھا کہ آپ کا مذ ہب کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا میرا مذہب محبت، صداقت اور تزکیہ قلوب پر مبنی ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ میرا نام "عیسی مسیح" رکھا گیا ہے 14-" حضرت عیسی کے کشمیر میں آنے اور ان کے ایک مرید "سندھی متی" کے بادشاہ بنے کا ذکر پنڈت کلمن کی "راج ترنگنی " میں بھی ملتا ہے یہ ذکر ایشان دیو" کے نام سے کیا گیا ہے۔اگر چہ پنڈت کلہن نے اس سلسلہ میں خالص دیو مالائی طرز بیان میں عجوبہ پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مبہم اور غیر مسلسل اور بہت لمبا واقعہ لکھا ہے جو " راج ترنگنی " مترجم از "ٹھا کر چند شاہپوریہ کے صفحہ ۷۷ سے ۱۹۴ تک پھیلا ہوا ہے۔لیکن اگر دوسرے قدیم لڑیچر کی روشنی میں اس پورے واقعہ پر ناقدانہ نظر ڈالی جائے اور اس کے حشو و زوائد اور غیر حقیقی عناصر کی چھان بین کی جائے۔تو اس سے یہ قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں کہ ایشان دیو (یعنی حضرت عیسی علیہ السلام) کا ایک مرید سندھی متی" کشمیر کے راجہ جے اندر کاوزیر تھا جسے راجہ نے غلط کار مشیروں کی سازش کے نتیجہ میں جیل میں ڈال دیا۔جو دس سال نظر بند رہا۔راجہ لا ولد تھا اس لئے اس نے اس خیال سے کہ میرے بعد سندھی متی ضرور تخت کا وارث ہو جائے گا۔سندھی متی کو پھانسی پر لٹکانے کا حکم دے دیا۔اس پر ایشان دیو" پر کشفی حالت طاری ہوئی۔اور اس نے دیکھا کہ جو گنیوں کا ایک مجمع ہے جس کے گرد روشنی کا ہالہ بنا ہوا ہے۔اس مجمع نے "سندھی متی" کا پنجرا اپنے حلقہ میں لے لیا۔پھر کیا دیکھتا ہے کہ مجمع اس کے (منتشر) اعضا جو ڑ رہا ہے۔ایشان دیو" جب عالم کشف سے بیدار ہوئے۔تو ان کو غیبی آواز آئی کہ اے ایشان خائف نہ ہو یہ شخص جسے ہم نے آسمانی جسم سے بنایا ہے زمین پر سندھی متی کے نام سے اور اپنے شریفانہ چال چلن کی وجہ سے آریہ راج کے لقب سے مشہور ہو گا۔چنانچہ ادھر سندھی متی پھانسی کی موت سے بچ گیا۔ادھر راجہ جے اندر کی موت واقع ہو گئی۔ایشان دیو نے سندھی متی " کو گلے لگایا اور اہل کشمیر نے بھی اس کے دوبارہ زندہ ہونے پر بڑی خوشی منائی اور بالا تفاق لاولد راجہ جے اندر کی جگہ اسے تخت پر بٹھایا۔"