تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 348
تاریخ احمدیت جلد ۵ 344 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیه جہاں آپ نے اپنے پاؤں مغرب کی طرف پھیلائے اور سر مشرق کی طرف کیا اور اپنی جان جان آفرین کے سپرد کردی۔حدیث نبوی کے مطابق آپ کا وصال ایک سو بیس برس کی عمر میں ہوا۔اور ایک روایت میں ہے کہ آپ مقدس تو ما کے ہاتھوں دفن کئے گئے۔(ناصرین گاسپل) سرینگر کے محلہ خانیار میں آپ کا مزار مبارک اب تک موجود ہے۔طبقات کبیر" میں حضرت امام حسن علیہ السلام کا یہ قول درج ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کی روح ۱۲۷ رمضان کو قبض کی گئی تھی۔"لقد قبض فی الليلة التي عرج فيها بروح عيسى بن مريم ليلة سبع وعشرين من رمضان ای طرح تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی قبر کے کتبہ کی عبارت یہ ہے۔" هذا قبر رسول الله عیسی بن مریم " اس وقت کا واقعاتی ثبوت کہ حضرت مسیح نے واقعی لمبی زندگی پا کر وفات پائی تھی ان تصاویر سے بھی ملتا ہے جو دوسری صدی کے ابتدائی مسیحیوں نے بنائی تھیں اور جو ان کے ہاں امانت کے طور پر محفوظ چلی آتی تھیں یہ تصاویر انسائیکلو پیڈیا برٹینکا جلد ۱۴ میں شائع ہو چکی ہیں۔ان تصاویر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ جوانی اور بڑھاپے کی تصاویر ہیں۔بڑھاپے کی تصویر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ حضرت مسیح اس وقت طویل العمر تھے۔| 1+ مشرقی لٹریچر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا روحانی سلسلہ خلافت اسلام کی آمد کے زمانے تک موجود تھا۔اور لوگ یہاں تو رات ، زبور ، انجیل اور صحف ابراہیمی پڑھتے اور ان پر عمل کرتے اور دو سروں کو ان پر عمل کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے۔عصر جدید کی تحقیق پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب حضرت مسیح کے سفر کشمیر سے متعلق چند مستند شہادتیں درج کی جاتی ہیں۔جن سے تاریخ کشمیر کے اس تاریخی واقعہ پر تیز روشنی پڑتی ہے۔یاد رہے کہ حضرت مسیح قدیم لٹریچر میں کئی ناموں سے پکارے گئے ہیں۔یسوع - یوز آسف - آصف یوسا- شافت میا- مسیح - مشیحا مسیحا می شی ہو۔عیسی۔ایشان دیو - عیسی نادیو - عیسی ناتھ۔مگر یہ سب ایک ہی شخصیت کے مختلف نام ہیں۔جن میں حضرت عیسی علیہ السلام کو مختلف قوموں یا گروہوں نے اپنے لب و لہجہ اور تلفظ میں یاد کیا ہے۔ہندو لٹریچر کی شہادت بھو یہ مہا پر ان ہندوؤں کے قدیم اٹھارہ پر انوں میں سے نواں پر ان " ہے۔اس کتاب کے تیسرے باب میں دو جگہ حضرت مسیح کی کشمیر میں آمد کا ذکر ملتا ہے چنانچہ لکھا ہے۔" ایک دن مہاراجہ شالبا ہن ہمالیہ پہاڑ کے ایک ملک میں گیا۔وہاں اس نے ساکا قوم کے ایک راجہ کو دین مقام پر دیکھا وہ خوبصورت رنگ کا تھا۔اور سفید کپڑے