تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 344 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 344

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 340 تحریک آزادی کشمیر ا د ر جماعت احمدیہ فصل ششم حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت مریم کشمیر میں ۴۵ اب ہم کشمیر کے اس تاریخی زمانے میں داخل ہو رہے ہیں جبکہ خدا کے ایک برگزیدہ نبی اور جلیل القدر پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جنہیں قدیم اسلامی لٹریچر میں امام السائحين " یعنی سیاحوں کا امام کہا گیا ہے ) اپنی والدہ حضرت مریم کے ساتھ صلیبی موت سے بچ جانے کے بعد اپنے تبلیغی مشن کی تکمیل کے لئے عراق ، فارس ، افغانستان اور پنجاب سے گزرتے ہوئے کشمیر میں رونق افروز ہو گئے اور آپ کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے ان کا بھی لانا ضرور ہے اور وہ میری آواز سنیں گی پھر ایک ہی گلہ اور ایک ہی چرواہا ہو گا۔تاریخ کشمیر بلکہ تاریخ عالم کے اس پر اسرار عہد پر صدیوں تک پردہ پڑا رہا اور خصوصا عیسائی دنیا نے اپنی مذہبی مصالح کے باعث اسے چھپانے کی مسلسل کوشش کی مگر جدید تحقیقات سے جو مشہور مذاہب عالم ہندو دھرم بودھ مت ، عیسائیت اور اسلام کے لٹریچر اور آثار قدیمہ کی روشنی میں کی گئی ہے اور جس کا سلسلہ گہری دلچسپی اور غیر معمولی توجہ سے جاری ہے اب تک حضرت مسیح علیہ السلام کے سفر کشمیر سے متعلق بہت ہی تعجب خیز اور حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آچکی ہیں۔اس علمی تحقیق میں جن محققوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیق کی روشنی میں مزید کام کیا ہے ان میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ، حضرت مولوی شیر علی صاحب حضرت قاضی محمد یوسف صاحب آف ہوتی مردان مولانا جلال الدین صاحب شمس ، چوہدری نذیر احمد صاحب بیرسٹرایٹ لاء لاہور ، شیخ عبد القادر صاحب محقق عیسائیت اور قریشی محمد اسد اللہ صاحب کا شمیری خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ان محققین کی ریسرچ سے جو نتائج بر آمد ہوئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صرف چند گھنٹے تک صلیب پر رہے اور بے ہوشی کے عالم میں زندہ ہی صلیب سے اتار لئے گئے۔حضرت مسیح کے صلیب سے زندہ اتارے جانے کے بعد حکیم نقود یمس نے آپ کے زخموں پر تیز مصالح اور شفا بخش مرہم لگایا اور پھر آپ ایک رومن طرز کی "قبر میں منتقل کر دیئے گئے جو آپ کے حواری یوسف آرمیتیا کی ملکیت تھی اور جو پہاڑ کھود کر بنائی گئی تھی اس قبر میں جو ایک کشادہ کمرہ کے