تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 342
تاریخ احمدیت جلد ۵ 338 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اس عظیم الشان انکشاف کے بعد کہ کشمیری اسرائیلی نسل سے ہیں "کشمیر " کی وجہ تسمیہ کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے کہ کشمیر دراصل عبرانی نام ہے۔جوک اور اشیر سے مرکب ہے کہ کے معنی ہیں مانند اور اشیر عبرانی زبان میں ملک شام کو کہتے ہیں۔پس ک اشیر کے معنی ہیں ” ملک شام کی مانند مگر کثرت استعمال اور مرور زمانہ سے ک اشیر کا درمیانی الف گر گیا اور کثیر رہ گیا۔جس کا واقعاتی ثبوت یہ ہے کہ خود اہل کشمیر اس خطہ کو آج تک کثیر ہی کہتے ہیں چنانچہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کا ایک شعر ہے "کشیری که با بندگی خود گرفته ت می تراشد ز سنگ مزار -