تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 341
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 337 تحریک آزادی کشمیراد ر جماعت احمد به " میں آباد ہوئے اور اب ان علاقوں میں زیادہ تر انہیں کی نسل پائی جاتی ہے۔کشمیریوں کانسیسی سلسلہ کئی پشتوں کے واسطہ سے براہ راست ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام تک جا پہنچتا ہے۔اگر اسرائیلی خصوصیات و آثار کی روشنی میں اہل کشمیر کے چہروں کی ساخت ، رنگ ، عادات زبان اور کشمیر کی پرانی یادگاروں اور ان کے ناموں پر وسیع نظر ڈالی جائے تو یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ کشمیر کے باشندے یقینا بنی اسرائیل کی اولاد سے ہیں۔یہ حقیقت اب اتنی واضح اور نمایاں ہو چکی ہے کہ مغربی اور مشرقی محقق مفکر اور سیاح حتی کہ عیسائی دنیا بھی اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔چنانچہ فرانسیسی ڈاکٹر بر نیئر نے اپنی کتاب "سلطنت مغلیہ میں سیرو سیاحت" (جلد دوم مطبوعہ لنڈن ۱۸۹۱ء) میں کئی محققین کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ کشمیر کے باشندے دراصل یہودی ہیں کہ جو تفرقہ شاہ اسور کے ایام میں اس ملک میں آگئے تھے۔اور ان کے لباس اور بعض رسوم قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی خاندان میں سے ہیں۔جارج فارسٹر نامی ایک انگریز اپنے مکاتیب سفر از بنگال تا انگلستان " مطبوعہ لنڈن ۱۸۰۸ ء میں لکھتا ہے کہ جب میں کشمیر میں تھا تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ڈاکٹر غلام محی الدین صاحب سوفی اہل کشمیر" کے عنوان سے لکھتے ہیں۔کہ "کشمیریوں میں سے بہتوں کے خدو خال کی یہودی وضع کا متعدد جدید سیاحوں نے مشاہدہ کیا ہے۔حالیہ زمانے میں کشمیر پر دو بلند پایہ محققین یعنی سر والٹر لارنس اور سر فرانس ینگ ہر بینڈ نے جن کی کشمیر اور کشمیریوں سے گھری واقفیت میں کوئی کلام نہیں ، عورتوں، بچوں اور مردوں کے چہروں کی صریح ” یہودی " وضع کو تسلیم کیا ہے۔سر والٹر لارنس کہتے ہیں کہ مڑی ہوئی ناک کشمیریوں کی امتیازی خصوصیت ہے۔اور عبرانی ناک نقشہ عام ہے۔سر فرانس کا کہنا ہے کہ "ہم نے اپنے ذہن میں قدیم اسرائیلی ہیروں کی جو تصویر بنائی ہے اسے کشمیر میں سچ سچ دیکھنا ممکن ہے۔۔۔۔اور واقعہ یہ ہے کہ اصلی انجیلی چہروں کو کشمیر میں ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔بر نیئر نے بھی اسی فیصلہ کن انداز میں بات کی ہے۔" پیر پنجال کے پہاڑ پار کر کے کشمیر میں داخل ہونے پر مجھے سرحدی دیہات کے باشندے یہودیوں سے بہت مشابہ معلوم ہوئے۔ان کے خدو خال اور آداب اسی قدیم قوم کے معلوم ہوتے ہیں۔میری بات کو محض تخیل آرائی نہ سمجھئے کیونکہ میرے کشمیر آنے سے مدتوں قبل ہمارے جیسوٹ پادری اور کئی دوسرے یورپی ان کی یہودی شکل و صورت کا ذکر کر چکے ہیں"۔شاہ ہمدان ولی اللہ چودھویں صدی عیسوی) میں تشریف لائے تھے۔انہوں نے بھی وادی کو گو یا کشمیر میں اسرائیلیوں کی آباد کاری کی تائید میں ” باغ سلیمان " کا نام دیا تھا"۔