تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 333 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 333

(فصل دوم) 329 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ قدیم تاریخ کشمیر پندرھویں صدی قبل مسیح سے لے کر ( جبکہ آریہ قوم جنوبی ایشیا میں داخل ہوئی) دو ہزار سال قبل مسیح اور مابعد کا زمانہ "زمانہ قبل از تاریخ" کہلاتا ہے۔اس دور کی تاریخ کے دو اہم ماخذ ہیں۔(۱) آثار قدیمہ (۲) ہندو لٹریچر آثار قدیمہ سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچتی ہے کہ " عہد تاریخ سے پہلے " بھی کشمیر میں آبادی تھی۔چنانچہ ڈاکٹر صوفی غلام محی الدین صاحب لکھتے ہیں۔اب تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کشمیر میں پتھر کا زمانہ آیا ہی نہیں بہر حال پاند ریلهن ، تخت سلیمان ارہوم وند را ہوم ، رنگل اور نارن راگ کے مقامات پر کھدائی وغیرہ کے بعد کاشتکاری اور شکار کے اوزاروں قدیم وضع کی قبروں، مختلف شکلوں کے گھڑے ہوئے پتھروں کی حالیہ دریافت نے بظاہر ثابت کر دیا ہے کہ ایسا عمد کشمیر میں گزرا ہے یعنی اس قدیم قبل از تاریخ دور میں بھی یہ سرزمین انسانوں سے آباد رہ چکی ہے۔بدھ زمانے سے پہلے اور بعد میں ناگ پوجا کار سمیع رواج اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وادی کشمیر کے اولین آباد کار ضرور دہ لوگ ہوں گے جو " باشندگان قدیم" کے نام سے مشہور ہیں۔اور آریاؤں کی آمد سے پہلے ہندوستان میں آباد تھے۔اس بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ کشمیر میں قدم رکھتے وقت ان ابتدائی باشندوں کی تہذیب کس مقام تک پہنچ چکی تھی"۔A زمانہ تاریخ سے قبل کے حالات کشمیر کا دوسرا ماخذ ہندوؤں کا لٹریچر ہے۔جس میں پنڈت کلمن کی کتاب "راج ترنگنی " ( تاریخ کشمیر) جو بارھویں صدی عیسوی میں راجہ جے سنگھ (۶۱۱۳۵-۱۱۶۲ء) کے عہد میں لکھی گئی اور بھوج پتر پر لکھی ہوئی کتاب رستا گر اور اس کا ترجمہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مگر متعدد مغربی محققین و مورخین کی رائے میں ہندوؤں کی پرانی کتابیں تاریخی نقطہ نگاہ سے قابل اعتماد نہیں ہیں۔چنانچہ ڈبلیو کوک ٹیلر کا بیان ہے۔”ہندوؤں کے بزرگوں نے۔۔۔تاریخ کو بالکل خبط کر دیا۔۔۔۔۔الفنسٹن صاحب سابق گورنر بمبئی اپنی کتاب " تاریخ ہند" میں لکھتے ہیں۔”ہندوؤں کی تاریخ نویسی انتها درجہ ناقص و نا قابل اعتماد ہے۔۔۔۔۔۔" مشہور مستشرق ڈاکٹر گستاولی بان نے کافی تحقیق کے بعد ہندو تاریخ نویسی کی نسبت یہ رائے قائم کی ہے۔