تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 331 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 331

یت - جلد ۵ 327 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد دیکھا جاتا ہے۔سری نگر میں ایک پیشہ اور بھی ہے یعنی زائرین کشمیر کی خدمت و تواضع کا پیشہ۔مختصر یہ کہ کشمیر کی اصل دادی ایک دلکش سیرگاہ اور سیاحوں کا مرکز ہے۔جسے بجا طور پر برصغیر پاک و ہند کا سوئٹزرلینڈ کہنا بالکل مناسب ہو گا۔بعض لوگ اسے ایشیا کا فیس بھی کہتے ہیں اور سری نگر کو بغداد کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔فرخی، نظامی، فیضی، عرفی اور دوسرے نامور شاعروں کے کلام میں اس کی تعریف پائی جاتی ہے۔فرانسیسی سیاح و ڈاکٹر گستاؤلی بان وادی کشمیر کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتا ہے۔اس کے ایک طرف تو برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں ہیں۔اور دوسری طرف پہاڑوں کی دیوار میں جہاں انسان کا قدم پہنچ نہیں سکتا۔ان دو موانع کے وسط میں نہایت خوشگوار آب و ہوا کا یہ ملک ہے جس کے کھیت سرسبز ہیں جھیلیں شفاف اور پرسکون گاؤں مکانات خوبصورت اور مندر اور قصروں کی دیواریں سفید سفید نظر آتی ہیں۔اس ملک میں صرف ایک ہی ندی جہلم ہے جس کا نام آریوں نے دتستا رکھا۔اور جسے یونانیوں نے ہائی ڈاس پنیر کہا ہے۔یہاں یہ ندی اپنے منبع سے قریب واقع ہوئی ہے اور اس کے کناروں پر چنار اور بید اس طرح اُگے ہوئے ہیں کہ پردوں کا کام دیتے ہیں۔ندی کے کناروں پر چلتے وقت جب اوپر کو آنکھ اٹھتی ہے تو ایک طرف ننگا پربت کی شاندار چوٹی جو ملک ہند کی سرحد ہے اور دو سری طرف ڈب سنگ کا پہاڑ۔جس کا درجہ دنیا کے پہاڑوں میں دوسرا سمجھا جاتا ہے۔نظر آتا ہے۔اگر نیچے نظر ڈالیں۔تو ایک اور ہی منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔جو بے انتہا خوشگوار اور دل پذیر ضرور ہے ایک طرف جھیلوں کے پر سکون نیلے پانی میں سنگ مرمر کی خوبصورت عمارتیں اپنے پاؤں دھو رہی ہیں۔اور دوسری طرف وہ سبزہ ہے جس کی گہری سبزی میں انواع و اقسام کے پھول اپنا تبسم دکھا رہے ہیں۔کشمیر کے وسط میں سری نگر جو کہ اس کا دار السلطنت ہے۔جہلم کے دونوں کناروں پر واقع ہے۔اور اس میں نہریں اس کثرت سے ہیں۔کہ اسے ہند کا وفیس کہتے ہیں۔مکانات کی مسطح چھتوں پر ایک تہہ مٹی کی بچھائی گئی ہے۔جس میں سے ہری گھاس اور قسماتم کے پھول کھلتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک معلق باغوں کا سلسلہ ہے اور جھیلوں کے اندر بھی تیرتے ہوئے باغ موجود ہیں۔اس گھائی میں انسان کا حس ، فطرت کی لطافت سے بھی مقابلہ کرتا ہے۔کشمیری صورت شکل میں نہایت حسین اور رنگ میں ہند کے کل باشندوں سے صاف ہیں۔کشمیر کا یہ خوبصورت اور دلفریب خطہ صوبہ کشمیر کا صرف ایک حصہ ہے اور ریاست میں صوبہ کشمیر کے علاوہ صوبہ جموں اور ملحقہ جاگیرات اور لداخ و گلگت کے اضلاع سرحدی بھی شامل ہیں مردم شماری ۱۹۴۱ء کی رو سے ریاست کی کل آبادی کم و بیش چالیس لاکھ تھی جو ملک شام کی موجودہ