تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 326
تاریخ احمدیت ، جلد ۵ 322 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال ۸۷ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یه ۳۲-۱۹۳۱ء صفحه ۱۵-۱۲- ۸۸ رپورٹ سالانه صد را بهمن احمد یه ۳۱-۱۹۳۰ء صفحه ۱۵-۱۶- -A4 Pandura Negombo Gampola Moturata Pussulawa ۹۰۔یہ لنکا کے اصل باشندے تھے اور ربوہ میں تعلیم حاصل کر کے گئے تھے۔الفضل ۲۴/ دسمبر ۱۹۵۲ء صفحه ۲ خواب نمبر - المبشرات شائع کرده ادارۃ المصنفین ربوه صفحه ۱۷۵-۱۷۸ ۹۲- الفضل ۳/ مئی ۱۹۳۲ء صفحہ ۵ کالم ۱-۲- -۹۴ ریکار ڈهد را انجمن احمد یه ۱۹۳۱ء ۹۵- الفضل ۳/ مئی ۱۹۳۲ء صفحه ۵ کالم ۱-۲- ۹۶ الفضل نو مبرود سمبر ۱۹۳۱ء میں تفصیلی رپورٹیں موجود ہیں۔-92 الفضل /۱۲/ نومبر ۱۹۳۱ء - مفصل تقریر الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۳۱ء صفحه ۵ تا ۷ و ۶ / دسمبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۵ تا ۹ پر چھپ گئی تھی۔۹۸- سر محمد یعقوب صاحب سیکرٹری مسلم لیگ نے اس سلسلہ میں یہ بیان جاری کیا کہ دہلی کے غیر تعلیم یافتہ طبقہ میں چوہدری ظفران خان صاحب کی صدارت کے خلاف جو شرارت پھیلائی گئی وہ ان کا نگریسی پھوؤں کی تیار کردہ تھی جو پس پردہ اس نوع کے کام کیا کرتے ہیں اور جن کا دماغی توازن اس وجہ سے اور بھی متزلزل ہو گیا تھا کہ گول میز کانفرنس میں مسلم مندوبین کی یگانگت و اتحاد نے کانگریسی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اور حامد سخت پریشان ہو رہے تھے کہ اب کیا کریں۔ناواقف طبقہ کی اس شورش کے باوجود میں دیکھتا ہوں کہ دہلی کے مسلمانوں کا تعلیم یافتہ طبقہ سمجھدار اور معالمہ قسم طبقہ ہمارے ساتھ ہے۔(ملاپ ۳۰ دسمبر ۱۹۳۱ء بحواله الفضل (۳/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۴) اس بیان کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ ہندو پریس نے اس دھاندلی پر خوشی کے شادیانے بجائے اور لکھا۔مسلم لیگ کے قادیانی صدر چودھری ظفر اللہ خان کی جو گست اب کے دہلی میں بنی ہے اور سیاہ جھنڈوں سے آپ کا استقبال ہوا ہے اس کی خبریں من کر یہی کہنا پڑتا ہے کہ یہ مسلم لیگ اور اس کے صدر مسلمانوں کے کسی طرح نمائندے نہیں ہیں۔(ملاپ ۲۸/ دسمبر ۱۹۳۱ء) نیز لکھا۔سمجھ نہیں آتی کہ عام مسلمانوں کے اس سلوک کے باوجود قادیانی کس طرح مسلم حقوق کی نمائندگی وغیرہ کی رٹ لگاتے اور ان کے لئے ہندوؤں سے الجھتے ہیں۔( آریہ دیر ۱۳۰ دسمبر ۱۹۳۱ء) الفضل ۳/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۰ کالم ۲- ١٠٠ یہ الفضل ۱۹۳۳ ء میں بالاقساط شائع ہونے کے علاوہ ٹریکٹ کی صورت میں بھی چھپ چکا ہے۔رت میں بھی -۱۹ بحوالہ اخبار الفضل ۵/ جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ سے کالم ۳ ١٠ الفضل ۱۲ جنوری ۱۹۳۲ء صفحه ۸ کالم ۱-۲- ۱۰۳ حضرت مسیح موعود کے پرانے خدام میں سے تھے آپ خدمت احمدیت کے لئے ایک سرگرم سپاہی تھے۔جن کے نتیجہ میں کاٹھ گڑھ اور اس کے گرد و نواح میں احمدیہ جماعتیں قائم ہوئیں۔دینی تعلیم قادیان میں حاصل کی تھی۔قرآن شریف بھر تھے اور سنسکرت کے فاضل تھے کئی تبلیغی مناظرے کئے احمد یہ مڈل سکول اور احمد یہ شفا خانہ جاری کیا۔تبلیغ کے لئے ایک عاشق کی مانند گھومتے رہتے تھے۔آپ کا پروگرام مقرر ہو تا تھا کھانے اور پہنے کا آپ کو کوئی خیال نہ ہو تا جو کچھ ملا کھا لیا اور جو کچھ ملا پہن لیا۔یہاں تک کہ اکثر سفر میں اپنے ساتھ جیب میں پنے رکھتے تھے۔(الفضل ۲۹/ اکتوبر ۱۹۳۱ء صفحہ کے کالم ۳) ۱۰۴، صوبہ بہار کے صحابہ میں سے تھے آخر عمر تک بڑے جوش کے ساتھ تبلیغ احمدیت اور مسلمانوں کے ملکی سیاسی اور قومی مفاد میں کوشاں رہے۔جماعت احمدیہ اور مسلمانان صوبہ بہار کے لئے ان کا وجود بہت نافع اور فیض رساں تھا۔صوبہ بہار کے اخبار اتحاد نے ان کی وفات پر لکھا۔آپ کے انتقال نے ایک زبر دست کمی کر دی ہے خدا اسے پورا کرے۔(الفضل ۱۰/ نومبر ۱۹۳۱ء صفحہ ۲ کالم ۳) یہ حضرت سید وزارت حسین صاحب کے بڑے بھائی تھے اور ہندوستان کے مشہور احمدی ادیب جناب سید اختر صاحب اور نیوی کے تایا۔