تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 318
تاریخ احمدیت جلد د 314 خلافت مانیہ کا اٹھارہواں سال محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس شام و فلسطین میں فریضہ تبلیغ کی کامیاب ادائیگی کے بعد ۲۰/ دسمبر ۱۹۳۱ء کو واپس دارالامان میں پہنچ گئے۔۱۹۳۱ء کی مطبوعات سلسلہ اس سال مرکز احمد بیت سے مندرجہ ذیل کتب شائع ہو ئیں۔" تجلیات رحمانیه" از مولانا ابو العطاء صاحب فاضل جناب مولوی ثناء اللہ امرتسری ایڈیٹر اہلحدیث" نے "تعلیمات مرزا" - "فیصلہ مرزا " و غیره بعض رسائل لکھے تھے جن کا جواب مولانا ابو العطاء صاحب نے حیفا فلسطین سے لکھ کر بذریعہ ہوائی ڈاک ارسال فرمایا اور حضرت مولوی میر قاسم علی ایڈیٹر " فاروق " نے دسمبر ۱۹۳۱ء میں تجلیات رحمانیہ" کے نام سے شائع کیا۔مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج" (مؤلفہ ملک فضل حسین صاحب) اس کتاب میں کشمیری مسلمانوں کے سیاسی مطالبات کی معقولیت حقائق و واقعات کی روشنی میں بالکل نمایاں اور ڈوگرہ راج میں ان کی درد ناک حالت اور نا گفتہ بہ مظلومیت کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔یہ کتاب بھی دسمبر ۱۹۳۱ء میں اشاعت پذیر ہوئی اور ملک صاحب کی دوسری کتابوں کی طرح غیر معمولی دلچسپی سے پڑھی گئی۔مباحثات بالاکوٹ و بھنگہ مولانا ابو العطاء صاحب تحریر فرماتے ہیں۔اوائل ۱۹۳۱ء کی بات ہے کہ بالا کوٹ ضلع ہزارہ میں غیر احمدی علماء سے مباحثات ہوئے۔پادریوں سے کامیاب مناظرہ پہلے ہو چکا تھا۔علماء سے جو مباحثہ وفات مسیح علیہ السلام پر ہوا اس میں مد مقابل مولوی عبد الحنان صاحب ہزار وی تھے۔اس مباحثہ کا آغاز نہایت پر لطف طریق پر ہو ا تھا میں نے اپنی تقریر کے شروع میں آیت قرآنی کی تلاوت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ شعر بآواز بلند پڑھا۔این جریم داخل مر گیا حق کی قسم بنت ہوا وہ محترم اس پر مخالف مولوی صاحب نے کہا کہ یہ شعر اس لئے غلط ہے کہ اگر حضرت عیسی کو وفات یافتہ بھی مان لیا جائے تب بھی یہ کہنا غلط ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو چکے ہیں۔جنت میں تو ابھی کوئی بھی داخل نہیں ہوا۔اس پر میں نے فورا مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ کیا رسول کریم ا بھی