تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 317
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 313 خلافت عثمانیہ کا اٹھار ہواں سال بنصرہ العزیز نے یکم جولائی ۱۹۳۱ء کو قادیان میں ایف۔اے کلاس کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ انگریزی تعلیم جاری رہے یہاں تک کہ گریجوایٹ خواتین کی اتنی کثیر تعداد پیدا ہو جائے کہ ہم سکول میں بھی زنانہ شاف رکھ سکیں۔اور کالج بھی قائم کر سکیں۔اس تعلق میں حضور نے یہ بھی فرمایا۔کہ تربیت اولاد کے مسئلہ میں کامیابی کی فقط یہی ایک صورت ہے کہ چھوٹی عمر کے بچوں کے بورڈنگ بنا کر ان کا انتظام عورتوں کے سپرد کر دیا جائے۔تاکہ وہ ان میں بچپن میں ہی خاص اخلاق پیدا کریں اور پھر وہ بچے بڑے ہو کر دوسروں کے اخلاق کو اپنے اخلاق کے سانچے میں ڈھالیں۔اگر ہم ایسے ہو مز (گھر) قائم کر سکیں۔تو اس کے ذریعہ سے اعلیٰ اخلاق پیدا کئے جا سکتے ہیں۔اور ایسی تربیت ہو سکتی ہے جو ہماری جماعت کو دوسروں سے بالکل ممتاز کر دے۔مگر یہ بات کبھی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کافی تعداد میں تعلیم یافتہ عورتیں نہ ہوں۔بیرونی مشنوں کے بعض واقعات مولانا رحمت علی صاحب کے ذریعہ فروری ۱۹۳۱ء میں جادا مشن کا قیام ہوا۔مولوی صاحب کا مرکز بٹا دیا تھا۔114 ابتدا میں بٹا دیا کے علاوہ چپو اور بوگر میں جماعتیں قائم ہو ئیں۔کبابیر میں مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ۳/ اپریل ۱۹۳۱ء کو پہلی احمد یہ مسجد کی بنیاد رکھی۔نومبر ۱۹۳۱ء میں فلسطین کی مردم شماری ہوئی۔جس میں احباب جماعت نے اپنے نام کے ساتھ احمدی مسلمان " لکھوایا۔فلسطین کی یہ پہلی مردم شماری تھی جس میں جماعت احمدیہ کا ذکر ہوا۔مسلمانان عالم کی ایک کانفرنس اوائل دسمبر ۱۹۳۱ء میں بمقام بیت المقدس منعقد ہوئی جس میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کو بھی دعوت دی گئی۔حضور نے مبلغ حیفا محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کو شامل ہونے کا ارشاد فرمایا۔اور گو بعض تنگ دل مشائخ نے یہ برداشت نہ کیا۔مگر اس واقعہ سے جماعت احمدیہ کی عالمی حیثیت و اہمیت ضرور واضح ہو گئی۔-۱ مبلغین اسلام کی آمد و روانگی 1- مکرم مولوی محمد یار صاحب عارف ۱۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو قادیان سے بغرض تبلیغ لنڈن روانہ ہوئے۔اور محترم ابو العطاء صاحب ۱۳/ اگست ۱۹۳۱ء کو قادیان سے حیفا ( فلسطین) کو۔۲۸/ تمبر ۱۹۳۱ء کو محترم جناب مولوی ابو بکر ایوب صاحب سماٹری دس سال قادیان میں تعلیم حاصل کرنے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد سماٹرار وانہ ہوئے۔