تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 316 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 316

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 312 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال اطہر احمد صاحب پیدا ہوئے۔ہوئی۔JEF - ۱۷ جولائی ۱۹۳۱ء کو حرم خامس حضرت ام وسیم کے ہاں صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب کی ولادت بنگال کی امارت کلکتہ کی جماعت کے امیر حکیم ابو طاہر صاحب اپنی بیماری کے باوجود بہت کامیابی سے سلسلہ کا کام چلا رہے تھے۔اور اپنی سرگرمیوں اور کوششوں سے کلکتہ جیسے علمی اور تجارتی مرکز میں جماعت احمدیہ کا وقار بلند کر کے اسے بڑے طبقہ میں مقبول بنا دیا تھا۔وہاں کا سیرت النبی کا جلسہ (۱۹۳۰ء) بهترین جلسہ تھا۔حضور نے ان کی ان مخلصانہ مساعی پر مجلس مشاورت میں اظہار خوشنودی فرمایا اور انہیں پورے بنگال کا امیر مقرر فرما دیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ نکاحوں سے متعلق ایک ضروری اعلان العزیز نے جماعت احمدیہ کو شادی بیاہ کی غیر اسلامی رسوم سے بچانے کے لئے یہ اعلان فرمایا۔اگر مجھے علم ہو گیا کہ کسی نکاح کے لئے زیو ریا کپڑے وغیرہ کی شرائط لگائی گئی ہیں یا لڑکی والوں نے ایسی تحریک بھی کی ہے تو ایسے نکاح کا اعلان میں نہیں کروں گا۔اسی ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ " فضول رسمیں قوم کی گردن میں زنجیریں اور طوق ہوتے ہیں جو اسے ذلت اور ادبار کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں اسلام ان سے منع کرتا اور اعتدال سکھاتا ہے"۔۱۹۳۱ء کی مردم شماری اور قادیان کی آبادی 1971ء کی مردم شماری میں قادیان کی کل ۱۹۲۱ء آبادی ۴۴۰۰ تھی جس میں سے احمدی ۲۳۰۰ تھے۔مگر دس برس کے بعد فروری ۱۹۳۱ء کی مردم شماری میں احمدی آبادی دگنی سے بھی بڑھ گئی جس کی فرقہ وار تفصیل یہ ہے۔احمدی ۵۱۹۸- غیر احمدی ۸۱۹- سناتنی ۳۸۶ - آریہ ۸۷ - سکھ ۲۶۸۔عیسائی چوہڑے ۵۱- چوہڑے ۲۰۹ میزان ۷۰۱۸-۳ ایک افغانی سیاح قادیان میں ایک افغانی سیاح ۱۳۰ مئی ۱۹۳۱ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے ملاقات کی۔ایدہ اللہ تعالی کی زیارت کے لئے قادیان آئے اور حضور قادیان میں عورتوں کے لئے اعلی انگریزی تعلیم کا اجراء حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی