تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 315
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ چوتھا باب (فصل ششم) 311 ۱۹۳۱ء کے بعض اہم و متفرق واقعات خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال ۱۹۳۱ء کا پہلا ہفتہ ملکی و قومی لحاظ سے بڑا المناک و دل مولانا محمد علی جوہر کا انتقال پر ملال خراش ثابت ہوا۔یعنی ان کے نہایت ہی مقبول و ممتاز سیاسی لیڈر مولانا محمد علی جو ہر جو حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں گوہر کے چھوٹے بھائی تھے اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف انتقال کر گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون مولانا محمد علی جو ہر اپنی علمی قابلیت سیاسی عظمت فطری جرأت اور جذبہ حریت میں شہرہ آفاق لیڈر تھے۔آپ نے اپنے وطن وقوم کی خدمت کے لئے اپنی عزیز سے عزیز متاع کو بھی قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔آپ عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔مگر محض آزادی کی تمنا لے کر لنڈن پہنچے۔گول میز کانفرنس میں شامل ہوئے اور ۳۱ / دسمبر کو لیٹے لیٹے آزادی وطن کے لئے ایک پر جوش اور ولولہ انگیز تقریر کی اور کہا۔"اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دینا ہو گی"۔یہ الفاظ ایک لحاظ سے صحیح ثابت ہوئے اور آپ لنڈن میں ہی ۱۴ جنوری ۱۹۳۱ء ساڑھے 9 بجے صبح کو وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون اور " خادم الحرمين الشریفین" مولانا جو ہر کا انتقال ایک قومی حادثہ تھا جس پر پورے عالم اسلام میں صف ماتم بچھ گئی۔جماعت احمدیہ نے اس پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔الفضل نے اس عظیم رہنما کی وفات پر نوٹ لکھا اور ان کے علمی کارناموں کو خراج تحسین ادا کیا۔اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے نظارت امور خارجہ نے محترم مولانا شوکت علی صاحب کے نام ایک برقی پیغام ارسال کیا۔کہ حضرت خلیفتہ المسیح کو مولانا محمد علی کی وفات کی خبر معلوم کر کے جو ایک قومی نقصان ہے سخت صدمہ ہوا۔انا للہ وانا اليه راجعون مہربانی فرما کر تمام خاندان سے حضور کی دلی ہمدردی کا اظہار کردیں"۔m | *}} | ۲۱- ۲۲/ مئی ۱۹۳۱ء کی درمیانی شب کو حضرت خلیفتہ المسیح خاندان مسیح موعود میں ترقی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی حرم ثالث ( حضرت ام طاہر) سے مرزا