تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 311 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 311

ریت - جلد ۵ 307 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال مسلم لیگ کا اجلاس دہلی اور چوہدری مسلم لیگ کا اجلاس دیلی ۱۲۲ دسمبر ۱۹۳۱ء کو مسجد فتح پوری کے جیون بخش ہال میں زیر صدارت ظفر اللہ خان صاحب کا خطبہ صدارت جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب منعقد ہونا قرار پایا تھا۔لیکن کئی روز سے احراریوں اور دوسرے کانگریسی علماء نے جلسہ میں رکاوٹ ڈالنے NA اور چوہدری صاحب کو محض احمد ی ہونے کی وجہ سے بد نام کرنے میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں۔آپ کا سیاہ جھنڈیوں سے استقبال کیا اور بالآخر ہال پر بھی قبضہ کر لیا۔جس پر مسلم لیگ کے ایک سو مندوبین خان صاحب نواب علی صاحب کی کوٹھی واقعہ کیلنگ روڈ نئی دہلی میں جمع ہوئے۔خان صاحب ایس ایم عبد اللہ صدر مجلس استقبالیہ کے خطبہ کے بعد سر مولوی محمد یعقوب صاحب سیکرٹری مسلم لیگ نے لیگ کو نسل کے انتخاب کے مطابق چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے فرائض صدارت ادا کرنے کی درخواست کی اور چوہدری صاحب کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے اور ایک مبسوط فاضلانہ خطبہ صدارت پڑھ کر سنایا۔اس خطبہ میں آپ نے مسلم نقطہ نگاہ کی ترجمانی کرتے ہوئے ملک کے تمام پیچیدہ اور لانخل مسائل مثلاً وفاق، وفاقی مجالس قانون مالیات وفاق، حق رائے دہندگی، عدالت وفاق ، صوبجاتی خود مختاری، مسلمانوں کے اساسی حقوق وغیرہ پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور نہایت صاف اور واضح لفظوں میں مسلمانوں کے موقف کی معقولیت مهرنیم روز کی طرح روشن کر دکھائی۔سیکرٹری مسلم لیگ کے الفاظ میں یہ اجلاس عدیم النظیر تھا۔اور اس میں کونسل کے ارکان نے غیر معمولی تعداد میں شرکت کی۔یہ خطبہ صدارت مسلم لیگ کی تاریخ میں نہایت درجہ اہمیت رکھتا ہے جسے اسلامی پریس نے بے حد سراہا۔چنانچہ چند مسلم اخبارات کی آراء درج ذیل ہیں۔(۱) روزانہ اخبار "انقلاب" (لاہور) یکم جنوری ۱۹۳۲ء کے پرچہ میں خطبہ صدارت درج کرتے ہوئے لکھا۔چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس دہلی کے صدر کی حیثیت سے جو خطبہ پڑھا۔اس میں سیاسیات ہند اور سیاسیات اسلامی کے تمام مسائل پر نہایت سلاست، سادگی اور سنجیدگی سے اظہار خیالات فرمایا "۔(۲) اخبار " الامان “ دیلی ۳۰ / دسمبر ۱۹۳۱ء نے لکھا۔جہاں تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس کی تجاویز اور اس کے خطبہ صدارت کا تعلق