تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 302 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 302

تاریخ احمدیت۔جلده 298 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال اس عظیم الشان رویا کی اشاعت کے پانچ برس بعد ۱۹۵۷ء میں سہیلیز زبان میں ”اسلامی اصول کی فلاسفی " شائع ہونے پر احمد یہ مشن ہاؤس میں ایک پبلک تقریب منعقد ہوئی جس میں ”اسلامی اصول کی فلاسفی" کے ترجمہ کی اشاعت کا اعلان سیلون کے وزیر ڈاک خانہ جات و براڈ کاسٹ نے کیا اور سیلون کے ہر روزنامے نے اس تقریب کا اس کی تصاویر دے کر نمایاں ذکر کیا۔اور مشن کے اس کارنامے کو قومی خدمت قرار دے کر خوب سراہا۔وزیر اعظم سیلون جناب بند را نائیکا (Bandra Naika S۔W۔R۔D) نے اپنے پیغام میں کہا۔بدھسٹ اور سہیلیز ہونے کے لحاظ سے میں اس کتاب "اسلامی اصول کی فلاسفی " ISLAM DHAR MAYA) کے لئے مختصر پیغام بھیجنے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔تاریخ سیلون کے اہم دور میں سہیلیز میں اسلامی کتب کی اشاعت باعث اطمینان ہے اس کے ذریعہ سے ایک دو سرے سے تعلقات بڑھیں گے۔یہ کتاب جو عام فہم زبان میں تیار کی گئی ہے۔یقینا سہیلیز زبان میں اسلامی لٹریچر کی ضرورت پوری کرنے والی ہوگی۔اسلامی اصول کی فلاسفی " کے مترجم مسٹرپی۔ایچ دید یکیے کا بیان ہے کہ جب میں ترجمہ کر رہا تھا تو کئی غیر مسلموں نے میری سخت مخالفت کی۔مگر میں نے اس قومی ودینی خدمت کی تکمیل ضروری خیال کی۔اور اس کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے اس سے عقیدت ہو گئی۔اسی وجہ سے اس کا ترجمہ بہت کم وقت میں مکمل ہو گیا۔سیلون ریڈیو سے بھی کئی روز مسلسل جماعت احمد یہ سیلون کی اس عظیم الشان خدمت کا تذکرہ کیا جاتا رہا۔اخبار اور لٹریچر کی اشاعت کے علاوہ ملکی اخبارات ریڈیو اور مبلغین کے مسلسل دوروں کی وجہ سے سیلون کے ہر شہر اور ہر گاؤں میں اسلام اور احمدیت کا پیغام بہت اچھی طرح پہنچ گیا ہے اور پندرہ اہم پبلک لائبریریوں میں جماعت احمد یہ کالٹر پچر بھی موجود ہے۔۱۹۵۲ء سے یہ مشن خود اپنا کفیل ہو چکا ہے اور سیلون کی جماعت دینی خدمتوں اور قربانیوں کے علاوہ سلسلہ کے تبلیغی و تربیتی کاموں میں بھی اسی طرح دل سوزی و سرگرمی اور جوش و خروش سے حصہ لینے والی ہے۔جس طرح دوسرے ملکوں کی جماعتیں۔صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر صد را مجمن احمدیہ کیلئے جدید عمارت اور اس کا افتتاح دفاتر غیر مناسب و بے ترتیب عمارتوں میں ایک دو سرے سے جدا اور منتشر حالت میں تھے جس کی وجہ سے سلسلہ کا خرچ بھی زیادہ ہو رہا تھا۔اور قربت و سہولت بھی حاصل نہیں تھی۔لہذا ستمبر ۱۹۳۱ء کے قریب مسجد اقصیٰ کے شرقی جانب پنڈت شنکر د اس صاحب کا پختہ مکان تھا جو خرید لیا گیا۔اس مکان کا سلسلہ احمدیہ کے قبضہ میں