تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 303
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 299 خلافت ثانیہ کا اٹھا ر ہو ان سال آجانا اور اللہ تعالٰی کے فضلوں میں سے ایک خاص فضل اور اس کے نشانوں میں سے ایک اہم نشان تھا۔جب پنڈت شنکر داس صاحب نے یہ عمارت تعمیر کی تو مسجد اور دار مسیح سے قرب کی وجہ سے احمدی آبادی بہت مشوش ہوئی مگر جب حضرت مسیح موعود کے سامنے اس کا ذکر ہوا۔تو حضور نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر ارشاد فرمایا۔یہ کوئی فکر کی بات نہیں۔شاہی کیمپ کے پاس کوئی شخص نہیں ٹھہر سکتا۔اس وقت یہ گھر نهایت آباد اور ترقی کی حالت میں تھا۔مگر اس کے بعد اس مکان کے مکینوں کو پے در پے ایسے صدمات پہنچے کہ یہ اجڑ گیا۔اور خدائی قدرت نمائی کا آخری کرشمہ پر ہوا کہ یہی عمارت حضرت مسیح موعود کے شاہی کیمپ کا ایک حصہ بن گئی اور اس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حکم سے شاہی فوج کے سپاہی دنیا کی روحانی فتح حاصل کرنے کے لئے داخل ہو گئے۔اس مکان کی اوپر کی منزل تک نہ تو لپائی تھی نہ سفیدی اور نہ فرش لگے ہوئے تھے۔علاوہ ازیں بالائی منزل میں دو بر آمدے اور دو کمرے ابھی تعمیر کئے جانے تھے لہذا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب افسر صاحب پراویڈنٹ فنڈ اور افسر صاحب تعمیر پر مشتمل ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔جس کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ عمارت کا اس رنگ میں نقشہ بنائے کہ زیادہ سے زیادہ دفاتر کی گنجائش نکل آئے۔سب کمیٹی کے تجویز کردہ نقشہ کے مطابق جب اس مکان کی عمارت میں مناسب کمی بیشی اور مرمت ہو چکی تو اپریل ۱۹۳۲ء میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفاتر کی اس جدید عمارت کا افتتاح فرمایا - 1 40- سیرت النبی کے جلسے حسب معمول سیرت النبی کے شاندار جلے اس سال بھی منعقد ہوئے۔لاہور کے جلسہ میں جو ۸/ نومبر ۱۹۳۱ء کو ہوا۔خود حضرت خلیفہ المسیح الثانی بھی تشریف فرما ہوئے۔بریڈ لاء ہال میں لالہ رام چند صاحب منچندہ اور مولوی محمد بخش صاحب مسلم بی۔اے کی تقریر کے بعد حضور نے ۲۴ گھنٹہ تک ایک بصیرت افروز تقریر فرمائی۔تقریر میں قرآن کریم کی آیت لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمومنين رؤف الرحیم (التوبہ) کی نہایت ہی لطیف تفسیر کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی پانچ ایسی خصوصیات بیان کی گئی ہیں جن میں آپ منفرد ہیں۔اس تاریخ کو گزشتہ روایات کے مطابق الفضل کا خاتم انیسین نمبر بھی شائع کیا گیا جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور دو سرے بزرگان سلسلہ اور علمائے سلسلہ کے علاوہ حضرت ساره بیگم صاحبہ محترمہ ناصرہ بیگم صاحبه امتہ السلام بیگم صاحبہ اور دوسری احمدی خواتین کے مضامین بھی شائع ہوئے۔غیر از جماعت اصحاب