تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 288
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 284 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال دم حضرت کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے انگریزوں کو ہرا دیا۔اول تو یہ بات ہی غلط ہے لیکن پھر بھی اگر گاندھی جی انگریز کیا ساری دنیا کو بھی ہرا دیں۔تب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل میں اس کی کچھ حیثیت نہیں کیونکہ گاندھی جی کی فتوحات لوگوں کو خوش کر کر کے ہو ئیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو ناراض کر کے جیتا یہاں تک کہ دنیا کا ایک معتدبہ مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں اگر ا اور ابھی کیا ہے دنیا دیکھے گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر کس طرح مخلوق اکٹھی ہوتی ہے۔گاندھی جی اور ان کی تحریکیں ہستی ہی کیا رکھتی ہیں۔اس خدا کے جرنیل کے مقابل میں جو دنیا کا نجات دہندہ بن کر آیا۔پھر گاندھی جی تو اسلامی تعلیم پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔۔۔پس ایسے شخص کی تعریف کرنا دراصل رسول کریم ﷺ کی علانیہ ہتک کرنا ہے "۔لائل پور میں ۲۰-۲۱/ جون ۱۹۳۱ء کو ایک زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کاحل زمینداره کانفرنس منعقد ہوئی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک اہم مضمون محترم مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے پڑھا - جو بعد کو ”زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل " کے نام سے رسالہ کی صورت میں بھی شائع کر دیا گیا۔اس مضمون میں حضور نے زمینداروں کی مشکلات کے عارضی و مستقل اسباب و علل اور پھران کے علاج پر بڑی تفصیلی روشنی ڈالی اور زمینداروں کی تباہی کا سب سے بڑا موجب سودی قرض کو قرار دیتے ہوئے اس سے نجات پانے کے لئے ایک بہترین سکیم پیش کی اور وعدہ فرمایا کہ " میں اور احمدی جماعت کے تمام افراد اپنی طاقت کے مطابق ہر اس جائزہ کوشش میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔جو آپ زمینداروں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کریں " بعض اکالیوں نے یہ چاہا کہ یہ مضمون ہی نہ سنایا جائے کیونکہ ان کو یہ خیال تھا کہ اس میں سلسلہ کی کچھ نہ کچھ تبلیغ ضرور ہو گی۔لیکن جب مضمون پڑھا گیا۔تو اکالیوں نے عصمت اللہ خان صاحب وکیل احمدی سے معافی مانگی اور اقرار کیا کہ مضمون بہت اچھا تھا۔ہم نے اسے روکنے میں سخت غلطی کی اسی طرح شہر کے دوسرے لوگوں نے بھی جو کا نفرنس میں موجود تھے اس مضمون کو بہت پسند کیا۔امام جماعت احمدیہ کی مذہبی نصیحت حیدر آباد دکن کے "صحیفہ روزانہ " نے اپنی ۲۵/ حسب ذیل بیان شائع کیا۔|NA ||14 جون ۱۹۳۱ء کی اشاعت میں حضرت مصلح موعود کا