تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 286
تاریخ احمدیت جلد ۵ چوتھا باب (فصل چهارم) 282 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال جماعت احمدیہ کا چهل سالہ دور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اکتوبر نومبر ۱۸۹۰ء میں مقام مسیحیت کا انکشاف ہوا۔جس کا اعلان حضور نے شروع ۱۸۹۱ ء میں ”فتح اسلام میں فرمایا۔اس لحاظ سے ۱۹۳۱ء کے آغاز میں جماعت احمدیہ کی عمر چالیس سال تک پہنچ گئی اور بلوغت تامہ کا پہلا درجہ جماعت کو حاصل ہوا۔یہ چالیس سالہ دور اس شان سے گزرا کہ اس کی ہر دہائی میں احمدیت کو فتح نصیب ہوئی۔پہلے دس سال میں مسیحیت و مجددیت کے خلاف اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹا گیا۔دوسرے دس سال میں اللہ تعالٰی نے نبوت کی تشریح و توضیح کا سامان فرمایا۔تیسرے دس سال میں نظام خلافت کو تقویت حاصل ہوئی۔اور چوتھے دس سال میں بیرونی ممالک میں بکثرت احمد یہ مشن قائم ہوئے۔اور سلسلہ کی عالمگیر ترقی کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔حضرت امیر المومنین نے خدا تعالٰی کی اس غیر معمولی تائید و نصرت پر جذبات تشکر ظاہر کرنے کے لیئے ۵/ جون ۱۹۳۱ء کو ایک اہم خطبہ جمعہ پڑھا اور ارشاد فرمایا کہ یہ ایک قسم کی جوبلی ہے کیونکہ پچاس سال کی عمر کا پا جانا بڑی خوشی کی بات ہوا کرتی ہے۔مگر پہلی بلوغت چالیس سالہ ہے اور ہمیں سب سے پہلے اس بلوغت کے آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ باوجود دشمنوں کی کوششوں کے ہماری جماعت چالیس سال کی عمر تک پہنچ گئی۔اور میں سمجھتا ہوں ہمیں خاص طور پر اس تقریب پر خوشی منانی چاہئے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ اگر بندہ اس کی نعمت پر خوشی محسوس نہیں کرتا۔تو وہ نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے اور اگر خوشی محسوس کرے۔او ر ا ے۔اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو زیادہ زور سے اللہ تعالیٰ کے فیضان نازل ہوتے ہیں پس میرا خیال ہے ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی چاہئے"۔اس چهل سالہ جو بلی کی بہترین صورت آپ نے یہ بیان فرمائی کہ۔"سب سے بڑی جو ہلی یہ ہے کہ ہم سال حال تبلیغ کے لئے مخصوص کر دیں اور اتنے جوش اور زور کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہو جائیں کہ ہر جماعت اپنے آپ کو کم از کم دگنی کرے یہ جو بلی ایسی ہوگی جو آئندہ نسلوں میں بطور یادگار رہے گی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے اپنی یادگاروں کے قیام کے لئے اینٹوں ، پتھروں اور چونے کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ دنیا میں روحانیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور