تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 278 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 278

تاریخ احمدیت جلده 274 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال ۲۶/ اپریل ۱۹۳۱ء کو حضور نے منصوری کے ٹاؤن ہال میں ”ہندو مسلم اتحاد" کے موضوع پر ایک اہم لیکچر دیا۔جس کے آخر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ۔میں تفصیلی طور پر غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندو مسلمانوں کی صلح ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ صلح نہیں ہو سکتی۔اور ہمیں اگر آپس میں لڑنا ہی پڑے تو بھی انسانیت کو بالائے طاق نہیں رکھنا چاہئے۔لڑائی کے وقت اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں کہ ہم انسانیت کو ہی بھول جائیں عورتوں اور چھوٹے بچوں کو ہلاک کریں۔چھوٹے بچوں پر تو جنگلی جانور بھی رحم کھاتے ہیں۔بہادری سے لڑیں اس سے صلح ہو جانے کی امید قائم رہتی ہے نہ کہ بزدلی سے کام لیں کہ یہ انسانیت کے خلاف ہے " حضور نے یکم مئی ۱۹۳۱ء کو اسلامیہ سکول میں خان بہادر کل حسین صاحب آنریری مجسٹریٹ کی زیر صدارت دو سرا لیکچر دیا۔جس میں ہندو مسلم تعلقات اور ان کی اصلاح کی ضرورت پر قریبا دو گھنٹہ تک معلومات افزا روشنی ڈالی۔جسے تمام طبقوں نے عام طور پر پسند کیا بلکہ حاضرین میں سے بعض کی رائے تھی کہ یہ اپنی قسم کی پہلی تقریر ہے جس کی تعریف میں تمام مختلف الخیالات لوگ رطب اللسان ہیں۔۱۴۴ ۳۰/ اپریل ۱۹۳۱ء کو حضور منصوری سے روانہ ہو کر ڈیرہ دون میں مقیم ہوئے پھر دہلی تشریف لے گئے جہاں حضور کی خدمت میں جماعت دہلی نے ایڈریس پیش کیا۔حضور نے جماعت دہلی کی تعریف کی اور فرمایا کہ یہ جماعت ان جماعتوں میں سے ہے جو حتی الوسع ان تمام ذرائع کو استعمال کرتی ہیں جن سے وہ کوشش کرتی ہیں کہ جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھے۔قیام دہلی کے دوران حضور نے نظام الدین اولیا ء رحمتہ اللہ علیہ کے مزار مبارک پر دعا کی۔مولوی برکت علی صاحب لائق سابق امیر جماعت لدھیانہ کی روایت کے مطابق اس سفر میں حضور مالیر کوٹلہ بھی تشریف لے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک قدیم صحابی حضرت صوفی میر عنایت علی صاحب کو بیعت اولیٰ کی معینہ جگہ کی نسبت اختلاف تھا۔ان کے نزدیک بیعت اولی موجودہ معینہ جگہ کے بالمقابل جنوبی کوٹھڑی میں ہوئی تھی۔لیکن دوسرے بیعت کنندگان کی رائے میں معینہ جگہ ہی اصل جگہ تھی۔اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے حضور نے واپسی پر لدھیانہ میں قیام فرمایا۔اور بیعت اوٹی کی جگہ کی تعین فرمائی جس کی تصدیق حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی ا نے بھی کی۔(جو پہلے روز کے بیعت کرنے والوں میں شامل تھے) اس طرح حضرت امیر المومنین کے ہاتھوں صحیح مقام سے متعلق اختلاف کا ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہو گیا۔