تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 277
تاریخ احمدیت جلد ۵ 273 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال ہیں۔رسول کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ میں جسے کسی کام کے لئے مقرر کرتا ہوں۔اس کی اطاعت کرانے والا میری اطاعت کرتا ہے اور اس کی نافرمانی کرنے والا میری نافرمانی کرتا ہے اس طرح رسول کریم ﷺ نے آرگنائزیشن کو مذہب کا حصہ بنا دیا اور کام کرنے والوں کی اطاعت اور احترام نظام کی جان ہے "۔نمائندگان مشاورت کو زریں نصیحت حضور ایدہ اللہ تعالی نے ۵/ اپریل ۱۹۳۱ء کو جو اس مجلس مشاورت کا تیسرا دن تھا۔اس کے آخری اجلاس میں نمائندگان مشاورت کو نصیحت فرمائی کہ ہمارے سارے کام روحانیت پر مبنی ہیں۔جب تک ہماری جماعت کا ہر فرد یہ محسوس نہیں کرتا کہ ہمارے کام قومی ملکی سیاسی نہیں بلکہ مذہبی ہیں اور ان کا سر انجام دینا عبادت ہے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی " C4- خواتین میں بہادری پیدا کرنے کی تحریک حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۰/ اپریل ۱۹۳۱ء کو خواتین میں تحریک جرات و بہادری پیدا کرنے کے سلسلہ میں فرمایا۔ابتدائی ایام میں مسلمان عورتوں نے بڑا کام کیا۔مگر اسی وجہ سے کہ انہیں جنگوں میں شامل ہونے کا موقعہ دیا گیا۔رسول کریم ﷺ ہمیشہ انہیں جنگوں میں شامل رکھتے تھے لڑائی کے فنون سکھاتے تھے۔اور مشق کراتے تھے۔مگر اب مسلمانوں نے یہ باتیں چھوڑ دیں ہیں ہمارا فرض ہے کہ انہیں دلیر بنا ئیں اور اگر لڑائی میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اندر اتنی جرات تو پیدا کر دیں کہ اگر ہم میں سے کوئی اسلام کے لئے جان دینے کے لئے جائے تو انہیں بجائے صدمہ کے اس دھمال سے خوشی ہو کہ اس ثواب میں ہم بھی شریک ہیں "۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹ / اپریل ۱۹۳۱ء کو مع حرم سوم حضرت ام رفیع صاحبہ اور سفر منصوری اپنی دختر ناصرہ بیگم صاحبہ آب و ہوا کی تبدیلی کے لئے منصوری تشریف لے گئے۔حضور کے ہمراہ حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم اے ، ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب اور شیخ یوسف علی صاحب پر ائیوٹ سیکرٹری بھی تھے۔حضور نے ۲۴/ اپریل کو جماعت احمدیہ منصوری کو اس کی تبلیغی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ پہاڑوں کو انبیاء اور علماء کے ساتھ نسبت ہے اس باطنی نسبت کے ساتھ اب پہاڑوں کو الٹی سلسلوں کے ساتھ ایک نسبت ظاہری بھی ہو گئی ہے۔اب اگر ایسے مختلف پہاڑی مقامات پر ہماری جماعتیں مضبوط ہو جائیں تو پھر ہم سارے ملک میں تبلیغ کر سکتے ہیں