تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 274
تاریخ احمدیت جلد ۵ 270 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال کر اپنے دوستوں کو خصوصاً برطانوی پبلک کو عموماً اسلامی نقطہ نگاہ سے واقف کریں گے۔اور انگلستان کو اس خطرناک غلطی میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھیں گے۔احمدی جماعت یہ امر کبھی برداشت نہیں کرے گی کہ مسلمانوں کو دوسری قوموں کے رحم پر چھوڑ دیا جائے اور اسلام کو آزادانہ طور پر پرامن طریق سے ترقی کرنے کے ذرائع سے محروم کر دیا جائے۔دو سرے اور تیسرے باب میں حضور نے لارڈارون کو اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی نسبت گزشتہ نوشتے بتائے اور پھر جماعت احمدیہ کے بائیس بنیادی عقائد بیان کرنے کے بعد خاتمہ میں بتایا کہ ” بے شک یہ سلسلہ اس وقت کمزور ہے لیکن سب الٹی سلسلے شروع میں کمزور ہوتے ہیں ، شام، فلسطین اور روم کے شہروں میں پھرنے والے حواریوں کو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیں گے۔وہی حال ہمارے سلسلہ کا ہے اس کی بنیاد میں خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور دنیا کی روکیں اس کی شان کو کمزور نہیں بلکہ دوبالا کرتی ہیں کیونکہ غیر معمولی مشکلات پر غالب آنا اور غیر معمولی کمزوری کے باوجود ترقی کرنا الھی مدد اور الٹی نصرت کا نشان ہوتا ہے اور بصیرت رکھنے والوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب " - - لارڈارون نے اس قیمتی تحفہ پر بہت خوشی کا اظہار کرنے اور اس کا زبانی شکریہ ادا کرنے کے علاوہ حضور کے نام ایک تحریری شکریہ بھی ارسال کیا جو تحفہ لارڈارون اردو ایڈیشن کے آخر میں طبع شدہ ہے۔اتحاد المسلمین کے لئے تحریک سیاسی تغیرات ملکی اپنے ساتھ مذہبی خطرات بھی لا رہے تھے۔وہ مسلمان جو پہلے ہی اقتصادی طور پر ہندوؤں کے دست نگر اور ذہنی طور پر ان کے زیر اثر تھے۔اور تعلیمی اور دنیوی ترقیات سے محروم چلے آرہے تھے۔اور ان کا تبلیغی مستقبل بھی تاریک نظر آرہا تھا۔چنانچہ گاندھی جی کا اخبار سیٹسمین میں ایک انٹرویو شائع ہوا کہ سو راج ( ملکی حکومت) مل جانے کے بعد اگر غیر ملکی مشنری ہندوستانیوں کے عام فائدہ کے لئے روپیہ خرچ کرنا چاہیں گے تو اس کی تو انہیں اجازت ہوگی لیکن اگر وہ تبلیغ کریں گے تو میں انہیں ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کروں گا۔جس کے معنے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ سو راج میں مذہبی تبلیغ بند ہو جائے گی۔اس کے علاوہ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم وستم کے واقعات برابر ہو رہے تھے۔پہلے بنارس میں فساد ہوا۔پھر آگرہ اور میرزا پور میں اور پھر کانپور میں مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔