تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 4
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 4 خلافت ثانیہ کا پندر میں اوپر کیسے بیٹھ سکتا ہوں اور آپ نیچے فرش پر بیٹھ گئے۔ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اور دوست وہاں بیٹھ جائیں مگر کسی خادم کو یہ جرات نہ ہوئی کہ ایسی حالت میں جبکہ اس کا پیارا آقا نیچے فرش پر بیٹھا ہے اونچے حصہ پر جابیٹھے۔لیکن جب یہ کمرہ بھر گیا اور جگہ تنگ ہو گئی اور بارش کی وجہ سے کوئی اور انتظام بھی ممکن نہ ہو سکا تو اس جگہ چھوٹے بچے بٹھا دیئے گئے اس پر حضور نے از راہ مزاح فرمایا ان بچوں کی نگرانی کے لئے چند بڑے بھی ان کے ساتھ بیٹھ جائیں۔چونکہ بچوں کو اس جگہ بٹھا دینے کے باوجود جگہ کی قلت دور نہیں ہوئی تھی اس لئے بعض اور اصحاب نے بھی وہاں بیٹھ کر کھانا کھایا۔" تاریخ احمدیت" کی سائمن کمیشن کی آمد اور جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات جلد پنجم میں سرسری طور پر یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان کو مزید سیاسی حقوق دینے اور دوسرے اہم ملکی مسائل کا جائزہ لینے کے لئے ۱۹۲۷ء کے آخر میں ایک کمیشن بھجوانے کا اعلان کیا تھا جس کے پریذیڈنٹ انگلستان کے بیرسٹر سرجان سائمن مقرر کئے گئے۔کمیشن کے فرائض میں یہ داخل تھا کہ وہ ہندوستان آکر مرکزی اور صوبائی قانون ساز اسمبلیوں اور کونسل آف سٹیٹ کے نمائندوں اور حکومت کے افسروں سے مشورے کرنے کے علاوہ مختلف ہندوستانی جماعتوں کے خیالات بھی دریافت کرے اور مختلف شہادتوں کو قلمبند کر کے اور متعلقہ امور کی تحقیقات کر کے دو سال تک اپنی رپورٹ برطانوی پارلیمینٹ کے سامنے پیش کر دے تا آئندہ دستور اساسی کی تیاری میں اس سے مدد مل سکے۔کمیشن کا اعلان ہوتے ہی آل انڈیا نیشنل کانگریس نے اس بناء پر کہ کمیشن میں کوئی ہندوستانی ممبر شامل نہیں کیا گیا۔اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔A اور مسلمانوں کے بعض قوم پر ور اور ذہین لیڈر اور صف اول کے سیاستدان جیسے جناب محمد علی جناح ، سر عبدالرحیم اور مولانا محمد علی جو ہر بھی اس فیصلہ کی تائید میں ہو گئے۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اس نازک ترین موقعہ پر مسلمانوں کی قیادت کے لئے پھر میدان عمل میں آئے اور آپ نے مسلمانوں کو بتایا کہ کمیشن کا بائیکاٹ ہندوؤں کی ایک خطرناک چال ہے انہوں نے انگریزوں سے تعلقات قائم کر کے انہیں اپنے مطالبات کی معقولیت منوانے کی مہم سالہا سال سے جاری کر رکھی ہے۔اور انگلستان کے بااثر لیڈروں سے ان کے گہرے تعلقات ہیں اس کے مقابل مسلمانوں میں بہت ہی کم انگریز لیڈروں کے روشناس ہیں نتیجہ یہ ہے کہ انگریز ہندوستان کے مطالبات وہی سمجھتے ہیں جو ہندوؤں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں۔اب ہندو یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے اپنے مطالبات پیش کرنے کا جو موقعہ پیدا ہوا ہے وہ بھی ان کے بائیکاٹ