تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 271
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 267 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہواں سال اور مسلمان لوٹتے تھے۔مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ہمیں اس امر سے تسلی ہے کہ اب ہندو مار نہیں کھاتے"۔اخبار "الفضل " نے جو مظلوم کی حمایت کے لئے وقف تھا۔مسلمانوں پر ان خطرناک مظالم اور ذمہ دار حکام کی مجرمانہ غفلت کے خلاف زبردست آواز بلند کی۔کان پور کے مصیبت زدہ مسلمانوں کی امداد کے لئے ایک مسلم ریلیف کمیٹی قائم ہوئی جسے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے دو سو روپے کا عطیہ ارسال فرمایا۔جس کی رسید خان بهادر حافظ ہدایت حسین صاحب بار ایٹ لاء پریذیڈنٹ ریلیف کمیٹی کانپور نے بھجوائی۔حکومتیں ہمیشہ زبردست کا انگریزی حکومت کی غفلت شعاری اور حضور کا اعلان ساتھ دیا کرتی ہیں۔ان دنوں انگریزی حکومت یہی مظاہرہ کر رہی تھی۔مسلمانوں کے خلاف فسادات برپا ہوتے تو گواہی دینے والے مسلمان ہی مقدمات میں پھانس لئے جاتے تھے۔حضرت اور نگ زیب رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے مسلمان بادشاہوں اور بزرگوں پر برابر حملے ہوتے رہتے۔حتی کہ امتحان کے پرچوں میں بھی مسلم بادشاہوں کو گالیاں دی جاتیں مگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوتی۔۱۹۳۱ء میں حکومت کی اس دو رخی پالیسی کا جماعت احمدیہ کو خاص طور پر نشانہ بننا پڑا۔بنگال میں ایک بد باطن نے ایک کتاب لکھی جس میں حضرت مسیح موعود کو شرمناک گالیاں دی گئیں۔مگر حکومت نے اس پر کوئی نوٹس نہ لیا۔اس کے مقابل ہماری طرف سے لیکھو نام لکھ دینے پر حکومت کی مشینری حرکت میں آگئی۔بحالیکہ جب پنڈت لیکھرام کا نام ہی لیکھو ہو تو اسے لیکھو نہ لکھا جائے تو اور کیا لکھا جاتا۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے حکومت کے اس غیر دانشمندانہ و نامنصفانہ اقدام پر ۲۷/ مارچ ۱۹۳۱ء کو احتجاج کرتے ہوئے فرمایا۔ہم ہر گز ایسے نوٹسوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ہم قانون کی پابندی کرتے ہیں۔گورنمنٹ اگر کوئی قانون بنائے گی کہ لیکھو کو لیکھو نہ کہا جائے تو خدا تعالٰی ہمارے لئے کوئی اور راہ نکال دے گا جس سے ہم آریوں کی دکھتی رگ پکڑ سکیں گے۔کیونکہ اسلام کوئی حکم ایسا نہیں دیتا۔جس سے مشکلات میں اضافہ ہو جائے۔اگر اس نے قانون کی پابندی کا حکم دیا ہے تو ایسے راستے بھی بتادیئے ہیں۔کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی اپنی غیرت کا ثبوت دے سکیں"۔اس کے ساتھ ہی آپ نے مصنفین سلسلہ کو اجازت دی کہ وہ اخلاق و قانون کے اندر رہتے TA