تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 262 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 262

-1 تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 258 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال رہے۔ان کے بعد یہ کام بالترتیب مندرجہ ذیل اصحاب کے سپرد ہو تا رہا۔چوہدری اقبال احمد صاحب حال چک ۹۸ شمالی سرگودها) (۲ جون ۱۹۵۱ء سے جون ۱۹۵۴ء تک) کمپٹن محمد حسین صاحب چیمہ (حال سیکرٹری مال لنڈن ) ( جون ۱۹۵۴ء سے جون ۱۹۵۷ء تک) جناب کمپٹن شیر ولی صاحب (حال موضع در جمال ڈا کھانہ کریالہ ضلع جہلم) (۱۱/ جون ۱۹۵۷ء سے ۲۵/ اکتوبر۱۹۵۷ء تک) - صوبیدار عبد الغفور صاحب نائب افسر ( اکتوبر ۱۹۵۷ء سے ۲۲/اکتوبر ۱۹۵۸ء تک) - چوہدری عبد السلام صاحب باڈی گارڈ قائم مقام افسر (۲۲/اکتوبر ۱۹۵۸ء سے ۸/ دسمبر ۱۹۵۸ء تک) صوبیدار عبد المنان صاحب دہلوی (۹/ دسمبر ۱۹۵۸ء سے آج تک ) پہرے کے انتظام کو زیادہ مستحکم بنانے کے خیال سے ۱۹۵۶ء میں نظارت حفاظت کا قیام ظہور میں آیا اور پہلے ناظر جناب مرزا د اؤ د احمد صاحب لفٹنٹ کرنل ریٹائرڈ مقرر ہوئے۔مگرے ۱۹۵ء کے شروع میں یہ نظارت ختم کر دی گئی۔اور حسب دستور سابق افسر حفاظت ہی پہرے کی نگرانی کا فرض انجام دینے لگے۔اس مستقل اور با قاعدہ انتظام کے علاوہ سالانہ جلسہ اور جمعہ اور دوسرے ہنگامی حالات میں ۱۹۲۷ء سے حضور کے زمانہ صحت تک بہت سے مخلصین آنریری طور پر حفاظت کی خدمت انجام دیتے رہے ہیں مثلاً سردار کرم داد صاحب رسالدار - لفظنٹ سردار نذر حسین صاحب - چوہدری اسد الله خان صاحب (حال امیر جماعت احمدیہ لاہور)۔چوہدری محمد صدیق صاحب فاضل (حال انچارج خلافت لائبریری - مرزا محمد حیات صاحب (رفیق حیات سیالکوٹ) مولوی عبدالکریم صاحب (ابن حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب حلال پوری) خواجہ محمد امین صاحب - ملک محمد رفیق صاحب - بابو شمس الدین صاحب ( حال امیر جماعت احمدیہ پشاور) جمعدار شیر احمد خان صاحب (حال لنڈن) جماعت احمدیہ کی ادبی خدمات دہلی کے مشہور ولی مرتاض حضرت خواجہ میر درد رحمتہ اللہ علیہ (۰۶۱۷۱۹ ۱۷۸۵ء) نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ "اے اردو گھبرانا نہیں۔تو فقیروں کا لگایا ہوا پورا ہے خوب پھلے پھولے گی۔تو پروان چڑھے گی ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قرآن حدیث تیری آغوش میں آکر آرام کریں گے۔بادشاہی قانون اور حکیموں کی طبابت تجھ میں آجائے گی اور تو سارے ہندوستان کی زبان مانی جائے گی"۔