تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 261
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 257 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال معارف میں ترقی نہیں ہو سکتی اور اب اس سے نئے نئے علوم نہیں نکالے جاسکتے ان کے دماغ معطل و مفلوج ہو کے رہ گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مادی ترقیات کے دروازے بھی بند ہونے لگے۔چنانچہ ساتویں صدی ہجری تک مسلمانوں میں ایجاد کا سلسلہ جاری رہا۔وہ طب کیمیا ہیئت ہندسہ الجبراً انجینر نگ کے ماہر تھے۔مگر اسی صدی میں جب یہ خیال غالب آگیا کہ اب قرآن سے نئے معارف نکالنا گناہ ہے دنیوی اختراعات کا سلسلہ بھی رک گیا۔ہمیں چاہئے کہ ہم ہمیشہ غور کرتے رہیں کہ کیا ہم میں بھی تو یہ نقص پیدا نہیں ہو گیا۔اور اگر ہو گیا ہے تو اس کے ازالہ کی کوشش کریں۔ورنہ جس نقص نے دوسرے مسلمانوں کو مصیبت میں ڈال زیادہ ہمارے لئے بھی مشکلات کا موجب بن سکتا ہے۔خلافت اللہ تعالیٰ کی حضرت خلیفتہ المسیح کیلئے پہرے کا مستقل اور باقاعدہ انتظام کا اور ان عظیم الشان نعمت اور بیش بہا امانت ہے۔جس کی حفاظت نظام اسلامی کی حفاظت ہے۔اور اس سعادت میں حصہ لینے والے اور خلیفہ وقت کا پہرہ دینے والے بڑے اجر و ثواب کے مستحق ہیں۔- حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے پہرہ دینے والے عبد الاحد خاں صاحب افغان ہیں جو ۱۹۱۸ ء میں حضور کا انفلوانزا کی شکایت پیدا ہونے کے دنوں میں پہرے کی خدمت انجام دیتے تھے۔اسی زمانہ کے قریب قریب خان میر صاحب انفان اور نیک محمد خان صاحب غزنوی بھی گا ہے گا ہے یہ خدمت انجام دینے لگے۔مگر یہ کام رضا کارانہ حیثیت میں ہو تا تھا۔دسمبر۷ ۱۹۲ء میں بہت سے دوستوں نے خواب میں دیکھا کہ حضور پر حملہ کیا گیا ہے۔جس پر ۱۵/ ستمبر ۱۹۲۷ء کو صدرانجمن احمدیہ نے خادم خاص" کے نام سے دو نئی اسامیاں منظور کیں اور فیصلہ کیا گیا کہ ان کا تقرر پرائیویٹ سیکرٹری (حضرت امیر المومنین) کے مشورہ سے ناظر امور عامہ کریں گے۔مگر غالبا یہ انتظام سالانہ جلسہ کے لئے کیا گیا تھا۔حضور کی حفاظت اور قصر خلافت کی حفاظت کا باقاعدہ انتظام شروع ۱۹۳۱ء میں ہوا۔اس سلسلہ میں پہلے محافظ خان میر صاحب افغان متوطن علاقہ دیسور مقرر ہوئے۔اگر چہ آپ صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی نگرانی میں ۱۲ جنوری ۱۹۳۱ء سے آنریری طور پر کام کر رہے تھے مگر دفتری حیثیت سے مارچ ۱۹۳۱ ء میں ان کا تقرر ہوا۔خان میر صاحب ۱۹۳۱ء سے ۱۱/ دسمبر ۱۹۴۷ء تک اس خدمت پر فائز رہے شروع میں تو آپ اکیلے پہرہ دار تھے مگر کچھ مدت کے بعد بعض اور اصحاب آپ کے ساتھ اس نازک ذمہ داری میں شامل ہو گئے۔۱۹۴۸ء میں پہرہ داروں کی نگرانی کے لئے " افسر حفاظت " کا تقرر عمل میں آیا۔اور پہلے افسر حفاظت جناب سید احمد صاحب مولوی فاضل (ابن حضرت ؛ اکٹر سید غلام غوث صاحب) مقرر ہوئے۔جو ماہ جون ۱۹۵۱ء تک یہ خدمت بجالاتے