تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 254 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 254

تاریخ احمدیت جلد ۵ 250 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ۷۳۔بحوالہ الفضل ۱۹ جولائی ۱۹۳۰ء صفحہ ۹ کالم 1 ۷۴۔الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۳۰ء صفحہ ۱-۲ ۷۵۔اس سلسلہ میں حضور کا اعلان الفضل ۲۱ اگست ۱۹۳۰ء صفحہ پر مندرج ہے۔ے۔الفضل ۱۹ اگست ۱۹۳۱ء صفحه ۵-۶ ۷۷ الفضل ۱۳ اگست ۱۹۳۰ء صفحه ۷۰۶ ۷۸ الفضل ۱۶۷ اگست ۱۹۳۰ء صفحه ۳ کالم اور صفحہ ۸ و الفضل ۹ اکتوبر ۱۹۳۰ء صفحه ۷ کالم ۲-۳ ۸۰ مفصل تقرير الفضل ۸ نومبر ۱۹۳۰ ء وا انو مبر ۱۹۳۰ء میں چھپ چکی ہے۔رپورٹ سالانہ صد را مجمن احمد یه ۳۱-۱۹۳۲ء صفحه ۴۰۳ -Ar ۸۲ رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یه ۳۰-۱۹۳۱ء صفحه ۱۰۸-۱۰۹ یہ سب آراء سیاسی مسئلہ کا حل کے اردو ایڈیشن میں چھپ چکی ہیں۔۸۴ یہ کانفرنس لندن میں تین بار منعقد ہوئی (۱) نومبر ۱۹۳۰ء تا جنوری ۱۹۳۱ء (۲) ستمبر ۱۹۳۱ء تا دسمبر ۱۹۳۱ء)۳(نومبر ۱۹۳۲ء تاد سمبر ۱۹۳۲ء - چوہدری ظفر اللہ خان صاحب تینوں کا نفرنسوں میں شامل ہوئے مگر جناب محمد علی جناح نے پہلی اور دوسری کانفرنس میں شمولیت فرمائی اور پھر دل برداشتہ ہو کر لنڈن میں ہی مقیم ہو گئے چنانچہ ان کا بیان ہے میں حیران ہوں کہ میری ملی خود داری اور وقار کو کیا ہو گیا تھا کانگریس سے صلح و مفاہمت کی بھیک مانگا کر تا تھا میں نے اس مسئلہ کے حل کے لئے اتنی مسلسل اور غیر منقطع مساعی کیں کہ ایک انگریز اخبار نے لکھا ” مسٹر جناح ہندو مسلم اتحاد کے مسئلہ سے کبھی نہیں تھکتے لیکن گول میز کانفرنس کے زمانہ میں مجھے اپنی زندگی میں سب سے بڑا صدمہ پہنچا اب میں مایوس ہو چکا تھا مسلمان بے سہار ا اور ڈانواں ڈول ہو رہے تھے۔مجھے اب محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی پیدا کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں آخر میں نے لندن میں ہی بودوباش کا فیصلہ کر لیا - حیات محمد علی جناح طبع دوم صفحه ۲۰۱۰۲۰۰ از جناب سید رئیس احمد صاحب جعفری) کانفرنس میں ان کی کیا پوزیشن تھی اس پر خود جناب محمد علی صاحب جناح مندرجہ ذیل الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں " میں اس کا نفرنس میں بالکل یکہ و تنہا تھا میں نے مسلمانوں کو ناراض کیا کیونکہ وہ مجھے مخلوط انتخاب کا حامی سمجھتے تھے۔ہندو مجھ سے الگ ناراض تھے کیونکہ میں چودہ نکات کا موجد تھا۔میں نے والیان ریاست کو بھی ناراض کیا۔۔۔برطانوی پارلیمنٹ بھی مجھ سے ناراض تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ دو ہفتے بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ کانفرنس کے مندوبین کے ہجوم میں میرا ایک بھی حامی اور مددگار نہ رہا۔( اقبال کے آخری دو سال ، صفحہ ۲۶۲ ۲۶۳۔از ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بنا دیا لارڈ فسیل و ڈ جو اس زمانے میں وزیر ہند تھے اپنی کتاب "Nine Troubled Years" کے صفحہ ۵۲ پر گول میز کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں جناح بھی چونکہ آغا خاں اور چوہدری ظفر اللہ خاں کے ساتھ بیٹھتے تھے اسلئے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے وفد کی راہنمائی کریں گے یہ صحیح ہے کہ انہوں نے وقتا فوقتا بحث میں نمایاں حصہ لیا لیکن ہم میں سے اکثر لوگ ان کے تغیر پذیر ذہن کی حرکات رکھنے سے معدار تھے۔یوں معلوم ہو تا تھا کہ وہ کسی شخص کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہیں۔کیا وہ ایک آل انڈیا فیڈریشن کے حامی تھے اس کا تیقین کے ساتھ جواب دینا ہمارے لئے ممکن نہ تھا۔کیا وہ مرکز میں ردو بدل کئے بغیر صوبائی خود مختاری کے حامی تھے بعض اوقات ان کی باتوں سے یہ معلوم ہو تا تھا کہ وہ صوبائی خود مختاری سے آگے نہیں جانا چاہتے تھے۔۔۔ان کی یہی تغیر پذیر ذہنی کیفیت تھی جو ان کے ساتھ تعاون کرنے میں ہمارے لئے مشکلات پیدا کر رہی تھی۔اور جس کی وجہ سے وہ اپنے مسلمان رفقاء کی صاف اور صحیح راہنمائی سے معذور تھے "۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب (جن کی نامزدگی میں جماعت احمدیہ کی کوششوں کا بہت دخل تھا۔رپورٹ صدر انجمن احمد یہ ۱۹۳۱ء و ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۰۹-۱۰) اگر چہ کا نفرنس میں شامل ہوئے اور اقلیتوں کے مسائل کی کمیٹی میں بطور ممبر سرگرم عمل رہے مگر ایک موقع پر جبکہ مسلم رفد کے سرگروہ نے کہا کہ صوبائی خود اختیاری کے ساتھ ہی مرکز میں وفاق قائم کر دیا جائے تو وہ مسلم وفد سے علیحدہ ہو گئے (ذکر اقبال صفحہ (۱۵۸) آپ لندن میں قیام کے دوران میں احمدیہ مسجد لنڈن کی ایک تقریب میں بھی شامل ہوئے۔