تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 251 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 251

- تاریخ احمدیت جلد ۵ 247 حواشی (تیرا باب) الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۷-۸ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۲۰۱-۲۰۲ الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۱۳ کالم رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۲۰۱-۲۰۲ خلافت ثانیہ کاسترھواں سال د الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۳۔بعض لوگوں نے اس سلسلہ اشتہارات کی مقبولیت کو دیکھ کر ندائے ایمان ہی کے نام سے جوابی اشتہار لکھے عمران حرکات سے اصل اشتہارات کا اثر زائل نہیں ہو سکتا تھا۔-1+ الفضل فروری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۰ کالم ۲-۳ الفضل ، فروری ۱۹۳۰ء صفحہ ۱۰-۷ "سرگزشت صفحه ۳۶۸- مثلا نواب صاحب بہاولپور نواب صاحب پالن پور سر محمد شفیع صاحب عبد المجید صاحب سالک خواجہ حسن نظامی صاحب الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۳۰ء صفحه ۲۰۱ اکتوبر ۱۹۳۰ء سے رسالہ مولوی ظفر محمد صاحب فاضل کی ادارت میں اور مارچ ۱۹۳۱ء سے سید یوسف شاہ صاحب کا شمیری کی ادارت میں نکلنا شروع ہوا آخری پرچہ میں جو دسمبر ۱۹۳۲ء میں چھپا مولوی محمد سلیم صاحب ایڈیٹر تھے۔رسالہ جامعہ احمدیه سالنامه و نمبر ۱۹۳۰ء صفحه ۱ ۱۳ رسالہ جامعہ احمدیه سالنامه دسمبر ۱۹۳۰ء -۱۴ تعلیم الاسلام میگزین جلد انمبر ا سرورق صفحه ۲ ۱۵ الفضل ۸ اپریل ۱۹۳۰ء صفحه اکالم الفضل ۹ مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۷ کالم ۲-۳ الفضل اپریل ۱۹۳۰ء صفحه ۸ کالم ۱۸ الفضل ۸ اپریل ۱۹۳۰ء صفحہ اکالم ۲-۳ الفضل 11 اپریل ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۳ ۲۰ الفضل ۱۵ اپریل ۱۹۳۰ء صفحه ۲ الفضل ۲۳ اپریل ۱۹۳۰ء صفحه ۲ کالم ۲ دیندار متقی اور جوش رکھنے والے نوجوان تھے زرعی زمین کے علاوہ لنگی کلاہ کی دکان بھی تھی سلیم اللہ صاحب صوبیدار میجر پیشنر نوشہرہ کے بیان کے مطابق ایوب شاہ صاحب مردان کی تحریک پر قاضی صاحب کے ماموں اور وہ داخل احمدیت ہوئے۔قاضی صاحب کی بیوی عرصہ ہو ا فوت ہو چکی ہیں ان کا ایک لڑکا با بو فضل علی اور نواسہ فیروز شاہ موجود ہے۔۲۲ الفضل ۴ مئی ۱۹۳۰ء صفحہ ۲ کالم ۱-۲ ۲۳ الفضل ۱۹ مئی ۱۹۳۱ء مزید تفصیل ۱۹۳۱ء کے واقعات میں آرہی ہے۔۲۴ الفضل ۲۳ اپریل ۱۹۳۰ء صفحه ۲ کالم ۳-۴ - ۲۵ الفضل ۲ جون ۱۹۳۰ صفحه کالم ۱۳ خطب جمعه سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی) ا ا ا الاب جو سید رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحہ ۴۶ ۲۷۔اس تجویز سے تمیمن نتائج نکلتے تھے۔(1) معتمدین سلسلہ کی تمام جائداد کے نگران میں گو خلیفہ کے ماتحت ہیں (۲) خلیفہ کا ناظر صاحبان کو مجلس معتمدین کے نمبر مقرر کرنا درست نہیں۔(۳) مجلس معتمدین کا انتخاب خلیفہ کی طرف سے نہیں جماعت کے