تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 240 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ " 236 تازه ارتقاء خلافت ثانیہ کا سترھواں سال دور جدید میں سب سے اہم فرقہ وارانہ نشود ارتقاء وہابیوں، بابیوں اور احمدیوں کا ہے موخر الذکر تحریک کے بانی مرزا غلام احمد ہیں جنہوں نے ۱۸۷۹ء میں قادیان کی بستی سے جو صوبہ پنجاب ہندوستان میں واقع ہے۔دعوت وارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔یه دو آپ کا دعویٰ نہ صرف مہدی موعود کا تھا بلکہ آپ مسیح موعود ہونے کے بھی مدعی تھے۔حالانکہ شخصیتیں اسلام کے رواجی علم کلام میں بالعموم جداگانہ اور مختلف قرار دی گئی ہیں، ایک اور اصلاح جو آپ نے اسلامیوں کے عقائد کی کی وہ یسوع مسیح کی وفات سے متعلق ہے۔مسلمانوں کا عام اعتقاد یہ ہے کہ مسیح زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے اور ان کی جگہ ان کا ایک شبیہ صلیب پر لٹکایا گیا۔اس کے برعکس آپ نے یہ بتلایا کہ فی الحقیقت مسیح ہی صلیب پر چڑھائے گئے لیکن ابھی زندہ ہی تھے کہ ان کے پیروان نے انہیں صلیب سے اتار لیا، رفتہ رفتہ ان کے زخم مندمل ہو گئے ، پھر انہوں نے کشمیر کا رخ کیا جہاں انجام کار وہ فوت ہو گئے اور ان کا مزار ابھی تک شہر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اس طریق سے آپ نے آسمان سے یسوع مسیح کی آمد ثانی کی امید کو منقطع کرتے ہوئے یہ بتلایا کہ آپ خود ہی وہ مسیح ہیں۔یعنی یہ نہیں کہ مسیح آپ میں حلول کر آیا تھا کیونکہ آپ مسئلہ تناسخ کے قائل نہیں تھے۔بلکہ آپ یسوع مسیح کے مثیل بنکر آئے اور آپ موجودہ نسل کے لئے بالکل اسی طرح یسوع مسیح تھے جس طرح ایلیا کی جگہ پر یوحنا تھا، کیونکہ وہ یوحنا کی خوبو اور قومی لیکر ظاہر ہوا تھا۔اس امر کے ثبوت میں کہ آپ یسوع مسیح کی خوبو اور قومی لیکر مبعوث ہوئے آپ نے اپنے خلق کی علیمی ، اپنی تعلیمات کی امن پسندانہ روش اور حاضر الوقت ضروریات سے مناسبت اور اپنے معجزات کے ذریعہ یسوع مسیح سے اپنی شخصیت اور کیریکٹر کی مماثلت کو ثابت کیا۔مسئلہ جہاد کی جسے عام طور پر کفار سے جنگ کے معانی میں استعمال کیا جاتا تھا۔اپنے امن پسندانہ دعوی کی مطابقت میں آپ نے یہ تشریح کی کہ سب سے بڑھ کر اس سے مراد زہد و اتقا کی جد وجہد ہے۔مرزا غلام احمد کا انتقال ۱۹۰۸ ء میں ہوا۔اور آپ کی وفات سے چند ہی برس بعد آپ کے متبعین دو گروہوں میں منقسم ہو گئے ، جن میں سے ایک کا صدر مقام قادیان ہے اور دو سرے کا لاہور۔اس سلسلہ کے ہر دو فریق ایسے مخلص اور ایثار پیشہ افراد کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہیں جو غیر مختتم طور پر بحیثیت مبلغ مناظر اور ناشر کے پوری مستعدی سے سرگرم عمل ہیں، وہ دعوت و تبلیغ کی ایک ایسی وسیع جد و جہد پر ضبط قائم کئے ہوئے ہیں جو نہ صرف ہندوستان مغربی افریقہ ماریشس اور جادا (جہاں ان کی مساعی زیادہ تر اپنے ہم نے ہبوں کو سلسلہ احمدیہ میں داخل کرنے میں صرف ہو رہی ہیں) بلکہ برلن، شکاگو اور لنڈن تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔یہاں ان کے مبلغین نے خاص مساعی یوروپین