تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 235 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 235

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 231 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال فصل ششم ایک جرمن سیاح مسٹر فریڈرک جو چین ایک جرمن سیاح قادیان میں FRIEDRICH WAGER CHEM NITZ ولداخ کے راستہ سے ہندوستان آیا تھا ۲۹ نومبر ۱۹۳۰ء کو وارد قادیان ہوا اور قریب دو ماہ تک مقیم رہا۔مسٹر فریڈرک قادیان کے ماحول سے بہت متاثر ہوا اور اس نے اپنے تاثرات ریویو آف ریلیجز (انگریزی) میں شائع کرائے جن کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے سیاح مذکور نے لکھا:- قادیان میں قیام :- میرا ارادہ چند گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ ایک دن قادیان میں ٹھہرنے کا تھا لیکن باوجودیکہ جب میں یہاں آیا تو میری ظاہری حالت بالکل معمولی تھی اور لمبے سفر کی وجہ سے بالکل ختہ ہو رہا تھا۔یہاں بڑی گرم جوشی کے ساتھ میرا خیر مقدم کیا گیا جو بہترین قیامگاہ اس وقت میسر تھی وہ میرے لئے تجویز کی گئی۔اور جلدی ہی مجھے کم از کم ایک ہفتہ ٹھرنے کی دوستانہ دعوت دی گئی اس وجہ سے مجھے اپنا پروگرام منسوخ کر کے یہاں ایک ہفتہ ٹھہرنا پڑا۔بعد میں متواتر اصرار پر مجھے اپنا قیام اس قدر لمبا کرنا۔پڑا۔کہ میں یہاں قریباً سات ہفتہ ٹھرا۔اس طرح مجھے جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ دیکھنے کا بھی موقع مل گیا۔جس میں ملک کے ہر حصہ سے لوگ شامل ہوتے ہیں۔اس جلسہ سے متعلق میں نہایت اعلیٰ رائے رکھتا ہوں عیسائی محققین اور قادیان:- یقیناً بہت سے عیسائی ایسے ہیں جو اسلام سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے دو ہی طریق ہیں ایک تو یہ کہ کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور دو سرے یہ کہ اسلامی ممالک میں رہائش اختیار کی جائے کتابوں سے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو اسلام سے متعلق غلط خیالات پیش کرتی ہیں جماعت احمدیہ کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ اس نے ایسی غلط بیانیوں کی تصحیح کی ہے اور اسلام سے متعلق صحیح اور مستند معلومات کا ذخیرہ فراہم کر دیا ہے جو لوگ اسلامی ممالک میں نہیں جاسکتے۔انہیں چاہئے کہ جماعت احمدیہ کا مہیا کر وہ لڑیچر پڑھیں اسلامی ممالک میں جانے والوں کے لئے ایک بڑی وقت یہ ہے کہ انہیں اس ملک کی زبان سیکھنی پڑتی ہے لیکن ہر ایک نہیں کر سکتا۔اب یہ وقت رفع ہو گئی ہے ایسے جو یان حق اگر قادیان جائیں تو انہیں وہاں متعدد ایسے لوگ ملیں گے جو نہایت فصیح انگریزی جانتے ہیں۔اور کئی ایک ایسے مشنری وہاں ہیں جو یورپ