تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 232 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 232

تاریخ احمدیت جلده 228 خلافت علانیہ کا سترھواں۔کے بلا مقابلہ ممبر منتخب کر لئے گئے چوہدری صاحب کی خدمات سے متعلق کثیر شہادتوں میں سے صرف چند آراء کا پیش کرنا کافی ہو گا۔ا خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اخبار منادی ۲۴ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں آپ کی لفظی تصویر پیش کرتے ہوئے لکھا:- دراز قد مضبوط اور بھاری جسم ، عمر چالیس سے زیادہ گندمی رنگ ، چوڑا چکلا چهره فراخ چشم فراخ عقل، فراخ علم اور فراخ عمل ، قوم مسلمان ، عقیدہ قادیانی - چپ رہتے ہیں اور بولتے ہیں تو کانٹے میں تول کر اور بہت احتیاط کے ساتھ پورا تول کر بولتے ہیں۔سیاسی عقل ہندوستان کے ہر مسلمان سے زیادہ رکھتے ہیں۔وزیر اعظم ، وزیر ہند اور وائسرائے اور سب سیاسی انگریز ان کی قابلیت کے مداح ہیں اور ہندو لیڈر بھی بادل ناخواستہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ شخص ہمارا حریف تو ہے مگر بڑا ہی دانشمند حریف ہے اور بڑا ہی کارگر حریف ہے گول میز کانفرنس میں ہر ہندو اور مسلمان اور ہر انگریز نے چوہدری ظفر اللہ خاں کی لیاقت کو مانا اور کہا کہ مسلمانوں میں اگر کوئی ایسا آدمی ہے جو فضول اور بے کار بات زبان سے نہیں نکالتا۔اور نئے زمانے کے پالیٹکس پیچیدہ کو اچھی طرح سمجھتا ہے تو وہ چوہدری ظفر اللہ ہے۔میاں سر فضل حسین قادیانی نہیں ہیں۔مگروہ اس قادیانی کو اپنا سیاسی فرزند اور سپوت بیٹا تصور کرتے ہیں۔ظفر اللہ ہر انسانی عیب سے پاک اور بے لوث ہے "۔۲ اخبار دور جدید لاہور (۱۶ اکتوبر ۱۹۳۳ء) نے لکھا ہے:۔" ہم آپ کی ان حالیہ مصروفیتوں اور خدمات اسلامی کو معرض بحث میں لانا چاہتے ہیں جن کے لئے آپ کو بہت بڑے ایثار سے کام لینا پڑا ہے۔آج چار سال سے آپ اس پریکٹس پر لات مار کر جس کی آمدنی اوسطاً پانچ چھ ہزار ہے محض لمت اسلامی کی خدمات انجام دینے کی خاطر انگلستان میں بڑی تندہی کے ساتھ کام کر رہے ہیں جن کو نہ صرف پنجاب کے بلکہ تمام ہندوستان کے مقتدر اور چوٹی کے رہنماؤں نے تسلیم کیا ہے حتی کہ اہل انگلستان ان کا لوہا مانے ہوئے ہیں "۔اخبار " انقلاب " لاہور ۱۳ جولائی ۱۹۴۱ء لکھتا ہے :- " سر سیموئل ہو ر و زیر ہند نے اپنی ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ گول میز کانفرنسوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔انہیں حل کرنے کے لئے قیمتی اور نتیجہ خیز خدمات سر محمد ظفر اللہ خاں نے سرانجام دیں"۔اخبار "شہباز " لاہور (۶ جولائی ۱۹۴۱ء) نے لکھا:- ۱۹۳۰ء میں ہندوستانی اصلاحات کے سلسلے میں لندن میں گول میز کانفرنس کے اجلاس شروع