تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 229
تاریخ احمدیت جلد ۵ 225 خلافت عثمانیہ کا سترھواں - گورنر حکومت کا زمہ دار اور وزارت میں شامل ہو گا۔گویا ڈھانچہ مل گیا ہے گو گورنر کے اختیارات کچھ زائد ہوں گے مسودہ رپورٹ میں یہ تھا کہ ہندوؤں سکھوں کی تعداد سے دگنی نیابت ملے گی ڈاکٹر مونجے لگا کہنے کہ مسلمانوں کو فلاں میں اتنا ملا ہوا ہے فلاں میں اتنا مسلمانوں نے درمیان میں ہی کہہ دیا کہ اچھا تعداد سے تین گنا لے لو اس کا بہت اچھا اثر ہوا۔اقلیتوں کی کمیٹی میں لبرل ہندوؤں کی طرف سے مختلف باتیں پیش کی گئی ہیں۔یہاں تک بھی کہہ دیا گیا ہے کہ اگر تم جداگانہ نیابت ترک نہیں کر سکتے تو پھر ہم تمہیں مجبور نہیں کرتے لیکن تعداد کے لحاظ سے نہ لبرل ۵۱ فیصدی سے آگے بڑھیں گے نہ انگریز کیونکہ سکھوں کو بھی وہ زائد دینا چاہتے ہیں۔آئندہ اجلاس 4 جنوری کو ہو گا۔کل اور پرسوں سر محمد شفیع نے خوب اچھی طرح مسلم مطالبات کو پیش کیا۔۶ کو شاید مجھے بھی کچھ کہنے کا موقعہ ملے۔آجکل میں پانچ کمیٹیوں میں کام کر رہا ہوں کل صبح ساڑھے دس بچے سے لیکر شام ساڑھے گیارہ بجے تک متواتر کمیٹیوں کے اجلاسوں میں بیٹھنا پڑا اور تمام نمائندگان کانفرنس میں سے صرف میں ایک تھا جو ہر اس کمیٹی میں شامل تھا جس کا اجلاس کل ہوا آجکل کام بہت تیزی سے ہو رہا ہے کیونکہ وقت بہت تنگ ہے میں انشاء اللہ ۲۳ یا ۳۰ جنوری (غالبا ۳۰) کو مارسیلز سے جہاز پر سوار ہوں گا اور ۸ یا ۱۵ (غالبا) ۵ فروری کی شام کو بفضل اللہ لاہور پہنچ سکوں گا۔خان صاحب اب تو خوب کام کر رہے ہیں کچھ دلچسپی بھی پیدا ہو گئی ہے اور کام کی تفاصیل کے ساتھ واقفیت بھی اس سے ان کا حوصلہ بھی بڑھ گیا ہے۔والسلام - حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خاں"۔بد الله الرحمن الرن سید نا و امامنا ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ مکتوب از لنڈن ۲۵ ستمبر ۱۹۳۱ء و برکاته ۱۸ ستمبر جمعہ کے دن خاکسار کو وزیر ہند نے انڈیا آفس میں گفتگو کرنے کے لئے بلایا تھا۔علاوہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق عام گفتگو کے آخر میں خاکسار نے کشمیر کے معاملات پر بھی انہیں توجہ دلائی اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ خود بھی توجہ کریں گے اور وائسرائے کو بھی توجہ دلائیں گے۔اس امر کی طرف اور اس کے اغلب نتائج کی طرف بھی توجہ ولائی۔کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی طرف سے نواب سر ذو الفقار علی خاں اور سر محمد اقبال جیسے صاحبان کو تو جانے کی اجازت نہ دی گئی اور احرار کے جتھے کو کسی نے نہ روکا۔اس کے بعد اطلاع ملی کہ عارضی صلح ہو گئی ہے اور آج خبر چھپی ہے کہ وسیع پیمانے پر فسادات ہوئے ہیں جن میں سرکاری افسران اور پولیس وغیرہ کے ۹۰-۹۵ آدمی زخمی ہوئے ہیں۔اور اگر ان کے ۹۵-۹۰ زخمی ہوئے تو رعایا کا خون بہت بے دردی سے بہایا گیا ہو گا۔پارلیمنٹ میں سوالات وغیرہ کے متعلق خان صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھ دیا ہو گا اور خاکسار کی دوسری ا،