تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 227
تاریخ احمدیت جلد ۵ 223 خلافت عثمانیہ کا سترھواں سال ا سے شروع ہونگے البتہ ۶ نمائندگان کی ایک ضابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کے اجلاس آج سے شروع ہو گئے ہیں تاکہ کانفرنس کا پروگرام تیار کیا جائے ان ۶ میں سے ۳ برطانوی نمائندے ہیں ۵ ریاستوں کے ۸ برطانوی ہند کے ان ۸ میں سے ۲ مسلمان ایک یورپین ایک سکھ آ ہندو جن کے نام یہ ہیں۔سپرو - جے کار - شاستری - بھوپندر ناتھ متر۔سکھ سردار اجل سنگھے۔یورپین سر ہیوبرٹ کار مسلمان شفیع اور جناح۔ان کے نام بھی آج کی کارروائی میں شائع ہو جائیں گے 'Royal EmpireSociety‘ کی طرف سے ایک تبصرہ سائمن کمیشن کی رپورٹ پر شائع ہوا ہے جس میں سے قابل تذکرہ یہ بات ہے کہ ان کی سفارش ہے کہ قریبا تمام ملک کو اس طرح پر ووٹ دے دیئے جائیں کہ ۲۰۰۲۰ کے حلقے قائم ہو جائیں۔اور یہ ۲۰ ایک ووٹر انتخاب کریں اس صورت میں ہر قوم کی تعداد آراء کے لحاظ سے آبادی کے مطابق ہو سکتی ہے یہ بھی سفارش ہے کہ تعلیم یافتہ لوگوں کو انفرادی طور پر بھی رائے دہندگی کا حق دیا جائے ان کی رپورٹ صوبجات میں سرکاری وزیر کے مخالف ہے۔بد الله الرحمن الجنہ سید نا و اما منا! السلام علیکم و رحمتہ اللہ مکتوب از لندن ۱۹ نومبر ۶۱۹۳۰ و برکاتی کانفرنس کے جنرل اجلاس ہو رہے ہیں ان کی رپورٹیں اخباروں میں چھپ رہی ہوں گی حضور کے ملاحظہ سے گذری ہوں گی مسلمان ممبران اپنے مطالبات پر متحد ہیں، ہندوؤں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا۔سمجھوتے کی افواہیں اخباروں میں بالکل غلط تھیں۔گفتگو ہوتی رہی ہے۔وہ اپنی جگہ پختہ ہیں ہم اپنی جگہ کا نفرنس میں یہ سوالات کمیٹیوں میں پیش ہوں گے اور یہ کمیٹیاں سوائے پہلی کمیٹی کے جو عام ڈھانچہ دستور آئین کا تیار کرے گی آئندہ ہفتہ کے آخر میں غالبا بنائی جائیں گی۔مسلمانوں کے مطالبات وہی ہیں جو حضور کی کتاب میں درج ہیں اس امر پر بھی اتفاق ہے کہ بنیادی حقوق دستور آئین میں درج ہونے چاہئیں اور اگر ان کی خلاف ورزی کی گئی تو عدالت کو دست اندازی کا اختیار ہونا چاہئے۔۔۔۔۔و السلام حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خان مکتوب از لنڈن ۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء جان الاحمر الرجن سیدنا و امامنا ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکات لبرل ہندوؤں اور مسلمان نمائندگان کے قائم مقاموں کے درمیان پھر سمجھوتہ کے لئے گفتگو جاری ہے گفتگو کی بناء جداگانہ حلقہ ہائے نیابت پر ہے کیونکہ مسلمانوں نے مشترکہ انتخابات کو تسلیم کرنے سے قطعی انکار کر دیا ہے چھ صوبجات کا جھگڑا بھی نہیں کیونکہ وہاں صورت یہ ہے کہ موجودہ حق نیابت اور جداگانہ انتخابات قائم ہیں صرف پنجاب اور بنگال کا جھگز ا ت بنگال میں تو مسلمانوں کو تمام کو نسل کی کثرت ملنی نا ممکن ہے کیونکہ یورپینوں کا حق