تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 223 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 223

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 219 خلا فت ثانیہ کا ستر ھو ے۔اخبار سیاست لاہور (مورخہ ۲ دسمبر ۱۹۳۰ء) "مذہبی اختلافات کی بات چھوڑ کر دیکھیں تو جناب بشیر الدین محمود احمد صاحب نے میدان تصنیف و تالیف میں جو کام کیا ہے وہ بلحاظ ضخامت و افادہ ہر تعریف کا مستحق ہے اور سیاست میں اپنی جماعتوں کو عام مسلمانوں کے پہلو بہ پہلو چلانے میں آپ نے جس اصول عمل کی ابتدا کر کے اس کو اپنی قیادت میں کامیاب بنایا ہے وہ بھی ہر منصف مزاج مسلمان اور حق شناس انسان سے خراج تحسین، صول کر کے رہتا ہے آپ کی سیاسی فراست کا ایک زمانہ قائل ہے اور نہرو رپورٹ کے خلاف مسلمانوں کو مجتمع کرنے میں سائمن کمیشن کے رو برد مسلمانوں کا نقطہ نگاہ پیش کرنے میں مسائل حاضرہ پر اسلامی نقطہ نگاہ سے مدلل بحث کرنے اور مسلمانوں کے حقوق کے استدلال سے مملو کتا بیں شائع کرنے کی صورت میں آپ نے بہت ہی قابل تعریف کام کیا ہے زیر بحث کتاب سائن ، پورٹ پر آپ کی تنقید ہے جو انگریزی زبان میں لکھی گئی ہے۔جس کے مطالعہ سے آپ کی وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے آپ کا طرز بیان سلیس اور قائل کر دینے والا ہوتا ہے آپ کی زبان بہت شستہ ہے "۔-- ایڈیٹر صاحب اخبار " ہمت " لکھنو (مورخه ۵ دسمبر ۱۹۳۰ء):- ہمارے خیال میں اس قدر ضخیم کتاب کا اتنی قلیل مدت میں اردو میں لکھا جانا انگریزی میں ترجمہ ہو کر طبع ہونا۔اغلاط کی درستی پروف کی صحت اور اس سے متعلق، سینکڑوں وقتوں کے باوجود تحمیل پانا۔اور فضائی ڈاک پر لندن روانہ کیا جانا۔اس کا بین ثبوت ہے کہ مسلمانوں میں بھی ایک ایسی جماعت ہے جو اپنے نقطہ نظر کے مطابق اپنے فرائض سمجھ کر وقت پر انجام دیتی ہے اور نہایت مستعدی اور تندہی کے ساتھ۔غرضیکہ کتاب مذکورہ ظاہری اور باطنی خوبیوں سے مزین اور دیکھنے کے قابل ہے"۔کتاب ”ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا حل " پر مزید تبصرے ۱۰ نومبر ۱۹۳۰ء DIL KUSHR, TEMPLE ROAD L HORE۔مکرمی جناب تقدس مآب مرزا صاحب السلام عليكم و رحمة الله وبركاته عنایت نامہ آج ہی ملا اور اس کے ساتھ آپ کی انگریزی کتاب جس میں ہندوستان کی سیاسی مشکلات کا حل آپ نے لکھا ہے میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے قیمتی خیالات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔میں کتاب کو شوق سے پڑھوں گا۔اور شوق سے کسی وقت تبادلہ خیالات کے موقع کا