تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 212
تاریخ احمد بیت جلد ۵ 208 کانگریس کے سوا دوسری کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتی اس لئے مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ برٹش مدبرین کے سامنے ان کی رہی پوزیشن ہو جو آج کانگریسی رہنماؤں کو حاصل ہے تو وہ انہی حکمت عملیوں پر کار بند ہوں جن پر کانگریس را ہنما عمل پیرا ہیں یعنی پراپیگینڈا کے لئے پریس کا زور قلم اور پلیٹ فارم کی آواز خرید نے کا انتظام کرنا چاہئے۔شملہ کے مقام پر جس قدر مسلم نمائندگان جمع تھے ان میں بعض صوبوں کے وزراء اکثر خطاب یافتگان تعلقه داران ، روسا صاحب جاہ اور حکومت نواز حضرات ہی شامل تھے چنانچہ لانگ وڈ ہوٹل اور ڈیویکو ہال روم سے نکلتے ہوئے سنا گیا کہ اس مسلم کانفرنس کو بیرونی دنیا میں آل انڈیا ٹوڈیز کا نفرنس کہا جاتا ہے۔بایں ہمہ یہ کہنا بالکل حق بجانب ہو گا کہ اس کا نفرنس میں جتنے حضرات نے حصہ لیا تھا۔وہ ہندوستان کے ان صوبوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے پوری پوری اسلامی حکومت قائم کرانے پر تلے ہوئے نظر آتے تھے۔ان کا یہ جذبہ اتنا مضبوط اور الم نشرح تھا کہ ایک دن وہ ضرور ہندو ابنائے وطن اور اپنے اجنبی حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کرنے کے لئے بھی آمادہ ہو جائیں گے کہ انہیں بنگال پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ سندھ اور بلوچستان کی حکومت دیدی جائے گیو ابھی تک وہ برادرانہ محبت اور صلح جو یا نہ حکمت عملی پر کار بند ہیں۔مگر ایک دن ضرور ایسا آنے والا ہے کہ مسلم سیاستدان ہر قسم کے ذرائع کو استعمال کرنے پر بھی آمادہ ہو جائیں گے اگر کسی بات نے ہمارے دل پر شملہ کا نفرنس کے متعلق اثر کیا۔تو وہ یہی چیز تھی آج جس طرح سے کانگریسی سیاستدان حکومت خود اختیاری کے لئے تن من اور دھن سے لگے ہوئے ہیں اسی طرح یقینا مسلم خطاب یافتگان تعلقه داران روسا، حکومتی عہدیداران اور حکومت نواز بھی اپنے سیاسی حقوق کی باز گشت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں گے۔حضرت میرزا بشیر الدین محمود صاحب ایک روحانی پیشوا سمجھے جاتے ہیں۔مگر راقم الحروف نے شملہ کا نفرنس کے موقعہ پر آپ کو سیاسیات حاضرہ سے پورا واقف راستباز اور صاف گو بزرگ پایا۔بالخصوص جس وقت دوسرے دن کی نشست میں گول میز کانفرنس کی شرکت کا سوال پیش ہوا۔تو راجہ غضنفر علی خان صاحب اور دو ایک دوسرے حضرات نے اس سوال کو قبل از وقت بیان کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کی کہ اس سے ہندوستان کو وہ قومیں جو اس کانفرنس کا بائیکاٹ کر رہی ہیں۔مسلمانوں کے اس اشتیاق تعاون کو حقارت سے دیکھیں گی۔اور اسلامی وقار کو دھبہ لگے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ چند دن صبر سے کام لیا جائے۔ملک فیروز خاں صاحب نون اور کئی ایک دوسرے حضرات نے اس دلیل کو توڑنے اور ریزولیشن کے حق بجانب یا بر محل ہونے پر زور دیا۔مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کے دلائل معترضین کو مطمئن نہ کرسکے اور اس کی وجہ غالبا یہی تھی کہ وہ سب حضرات اس ریزولیوشن کی برجستگی اور اس