تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 206
تاریخ احمدیت جلد ۵ 202 خلافت عثمانیہ کا سترھواں گوجرانوالہ نواں شہر ضلع جالندھر، لائلپور چوہڑکانہ اوکاڑہ ، منٹگمری وغیرہ مقامات سے احمدی قادیان ٥٥ پہنچ گئے۔جو احباب یہ افواہ بن کر گھروں سے دیوانہ وار چل دیئے تھے ان کا بیان ہے کہ شدت غم والم میں از خود رفتہ ہو جانے کی وجہ سے انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ ان کے ساتھ گاڑی میں کون لوگ بیٹھے ہیں اور وہ کس کس اسٹیشن سے گزر رہے ہیں ، فور غم واندوہ کی وجہ سے آنسو بھی نہ نکلتے تھے بس ایک بیہوشی کا سا عالم تھا اور خود فراموشی کا ایک دریا تھا جس میں بہتے چلے جارہے تھے جب راستہ میں کسی نے اس خبر کے غلط ہونے کا ذکر کیا تو بے اختیار خوشی کے آنسو نکل آئے لیکن پھر خوشی اور مسرت کا یہ عالم تھا کہ اس کا برداشت کرنا مشکل ہو گیا جس طرح غم واندوہ کا کوئی اندازہ نہ تھا اسی طرح اب خوشی کی بھی کوئی حد نہ رہی تھی۔لیکن باوجود یکہ انہیں رستہ ہی میں حضرت امیر المومنین کی خیریت کا علم ہو چکا تھا اور وہ اسے صحیح بھی سمجھ گئے تھے تاہم صبر نہیں کر سکتے تھے تاوقتیکہ حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کا بیان ہے کہ میں جو راستہ پر بیٹھتا ہوں ان آنے والوں کو دیکھتا تھا کہ وہ محبت اور اخلاص کے پیکر ہیں انہیں دوران سفر میں اس خبر کا افتراء ہونا معلوم ہو چکا تھا۔مگر ان کی بے قراری ہر آن بڑھ رہی تھی۔اور یہ صرف اعجاز محبت تھا یہ دوست اپنی اس بیقراری میں قصر خلافت کی طرف بھاگے جارہے تھے میں نے دیکھا بعض ان میں ایسے بھی تھے جنہوں نے اس سفر میں نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ان طبعی تقاضوں پر بھی محبت کا غلبہ تھا۔جب تک قصر خلافت میں جاکر انہوں نے اپنے امام کو دیکھ نہ لیا۔اور مصافحہ اور معانقہ کی سعادت حاصل نہ کرلی ان کے دل بے قرار کو قرار نہ آیا۔خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔” باہر سے آنے والوں کی حالت یہ تھی کہ باوجودیکہ اس کی تردید ہو چکی تھی مگر وہ یہی کہتے تھے جب تک ہم خود دیکھ نہ لیس ہمیں چین نہیں آئے گا۔مجھے اس دن سردرد کا دورہ تھا مگر آنے والے دوستوں سے ملناپڑتاتھا۔حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی حالت آنے والے دوستوں سے ایک الگ رنگ رکھتی تھی آپ کو اس شہر کا کوئی خیال نہ تھا جو تکلیف تھی وہ یہ تھی کہ اس خبر نے جماعت کو تکلیف دی آپ ان کے مالی نقصان ان کے ذہنی اور روحانی تکلیف کو اس طرح محسوس کرتے تھے کہ گویا آپ ہی پر وارد ہو رہی ہے۔01 ٹرمیون " کی خبر نے پوری جماعت کو مجسم گریہ وزاری بنادیا مگر اس سے کئی سبق بھی حاصل