تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 199 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 199

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 195 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال طریق ہے جس سے قانون کا احترام بھی قائم رہے اور ہندوستانیوں کو تشدد کی بھی شکایت نہ ہو۔۲- تمام گورنروں کی کانفرنس منعقد کی جائے اور سب ہندوستان کے لئے ایک متفقہ طریق عمل تجویز کیا جائے۔پر لیس پر پابندیاں لگانا ایک حد تک ضروری ہے لیکن اس قدر ضمانتوں کا طلب کرنا اردو پریس کے لئے ناقابل برداشت ہے اور شورش کو بڑھا دے گا پس اول صرف تنبیہہ ہونی چاہئے دوسری بار معمولی ضمانت طلب کی جائے تیسری بار زر ضمانت زیادہ کر دیا جائے۔۴۔حکومت کو اعلان کرنا چاہئے کہ موجودہ گرفتاریاں تحریک آزادی کو روکنے کے لئے نہیں بلکہ اس کے لئے بہتر فضا پیدا کرنے کی غرض سے ہیں ورنہ ہندوستان کو بہر حال درجہ نو آبادیات دیا جائے ۵- مسلمان موجودہ شورش میں من حیث القوم الگ ہیں۔مگر ہنگامہ پشاور میں حکومت سے سخت غلطی ہوئی اور مقامی حکام نے ضبط نفس سے کام نہیں لیا حکومت کو اس کا ازالہ کرنا چاہئے اس ضمن میں اس قسم کا اعلان بہت مفید ہوگا۔کہ صوبہ سرحد کو بھی دوسرے صوبوں کے ساتھ ساتھ ملکی اصلاحات دے دی جائیں گی۔مسلمانوں کو شبہ ہے کہ حکومت فیصلہ کرتے وقت ان کے حقوق ہندوؤں کے شور کی وجہ سے تلف کر دے گی اس کا ازالہ ہونا چاہئے۔ے۔شاردا ایکٹ کے بارے میں بھی حکومت نے سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے میں خود بچپن کی شادیوں کا مخالف ہوں لیکن اس کے باوجود ہرگز پسند نہیں کرتا کہ ایک کثیر التعداد جماعت سوشل اصلاح کے نام سے قلیل التعداد جماعتوں کے ذاتی معاملات میں دخل دے۔وائسرائے ہند کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر کننگھم کی طرف سے اس خط کا مفصل جواب موصول ہوا جس کا ملخص یہ تھا کہ :- ا انگلستان سے واپسی کے بعد ہز ایکسی لینسی نے مختلف جماعتوں کے مشہور نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم رکھا ہے اور انہیں یقین ہے کہ گورنروں نے بھی رکھا ہو گا اس لئے فی الحال با قاعدہ کسی کانفرنس کی ضرورت نہیں۔۲- اس سے زیادہ بے بنیاد خیال اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ حکومت آزادی ملک کے جائز جذبات کو دبانا چاہتی ہے۔۔اخباروں کو کئی موقعوں پر ضمانت طلب کرنے سے پہلے دوستانہ انتباہ کیا گیا ہے اور اس کا اثر