تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 190 خلافت تانیہ کاسترھواں سال ایک مختصر مجلس تعلیم (تعلیمی بورڈ) کی تجویز پیش کی جس کے سپرد جماعت کی اعلیٰ نگرانی کا کام کیا جاسکے۔اس کمیٹی کی رپورٹ ۱۹۳۲ء کی مجلس مشاورت میں پیش ہوئی لیکن اس کی تائید میں صرف سات نمائندگان تھے۔کثرت رائے اس تجویز کے خلاف تھی۔حضرت خلیفتہ المسیح نے نمائندگان جماعت سے رائے لینے کے بعد چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کی یہ تجویز منظور فرمائی که نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے ایک نئی رپورٹ تیار کی جائے جس میں دوسری یونیورسٹیوں کے انتظام کے پیش نظر احمدیہ یونیورسٹی کا ڈھانچہ ہو۔چنانچہ نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے نے ایک ڈھانچہ تیار کیا جس پر مارچ ۱۹۳۳ء میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ملک غلام رسول صاحب شوق اور قاضی پروفیسر محمد اسلم صاحب پر مشتمل ایک اور کمیٹی کا تقرر عمل میں لایا گیا جس نے ۱۹۳۸ء میں اپنی سفارشات پیش کیں۔ان سفارشات پر مزید غور کرنے کے لئے حضور نے مندرجہ ذیل ممبران پر مشتمل ایک اور کمیشن مقرر فرمایا چوہدری ابوالہاشم خاں صاحب صدر - ناظر صاحب تعلیم و تربیت سیکرٹری۔حضرت میر محمد اسحق صاحب صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ملک غلام رسول صاحب شوق - مولوی عبدالرحیم صاحب درد- پروفیسر قاضی محمد اسلم صاحب۔اس کمیشن کی رپورٹ سب کمیٹی (شوری) کی سفارشات کے ساتھ ۱۹۴۰ء کی مجلس مشاورت میں پیش ہوئی تو حضور نے مشاورت کی بحث سننے کے بعد فرمایا:- "1 یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ ہم ایک ایسے بورڈ کے قیام پر غور کریں جس کا کام امتحانات کی نگرانی تعلیمی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور نصاب مقرر کرنا اور نصاب کے لئے اگر کسی موضوع پر کوئی موزوں کتاب موجود نہ ہو تو وہ لکھوانا ہوتا یہ ٹیکنیکل کام ناظر کے ہاتھ سے نکل کر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے جو تعلیمی لحاظ سے زیادہ ماہر ہوں"۔کثرت رائے تعلیمی بورڈ کے حق میں تھی اور حضور نے بھی فیصلہ فرمایا کہ صدرانجمن احمد یہ جلد سے جلد ایک ایسے بورڈ کے قیام کے متعلق تفصیلی قواعد بنا کر میرے سامنے پیش کرے۔سلسلہ کے سب امتحانات بھی اسی کے سپرد ہوں"۔چنانچہ اس ہدایت کے مطابق حضور کی خدمت میں تفصیلی قواعد پیش کئے گئے اور بالآخر آپ کی منظوری سے ۱۹۴۲ء میں اس تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا جس کا نام مجلس تعلیم رکھا گیا۔اس طرح احمد یہ یونیورسٹی کے ابتدائی نظام کی داغ بیل مجلس تعلیم کی صورت میں قائم کر دی گئی۔