تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 190
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 1869 خلافت ثانیہ کا سترھواں۔قادیان سے نکال دیا ہے بٹالہ میں ان کی تحریک پر انجمن شباب المسلمین کے عہدیداروں اور والٹیئروں نے 9 اپریل ۱۹۳۰ء کو ایک جلوس مرتب کیا جو محض اشتعال دلانے کے لئے اس محلہ سے گزرا جہاں پریذیڈنٹ انجمن احمد یہ بٹالہ (شیخ عبدالرشید صاحب مالک کارخانہ عبدالرشید اینڈ سنز) کا مکان تھا۔جلوس نے مکان کے سامنے فحش گالیاں دیں اور حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اور دوسرے افراد خاندان مسیح موعود کے متعلق ناروا کلمات استعمال کئے اور جب انہیں منع کیا گیا تو جلوس کے بعض افراد دروازے توڑ کر جبرا ان کے رہائشی مکان میں گھس گئے اور اندر جاکر انہیں اور ان کے لڑکے کو زدو کوب کیا اور سامان توڑ پھوڑ دیا۔بٹالہ میں ان کی قماش کے لوگوں نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی ان کے جلوس نکالے ان کے لئے چندہ جمع کیا مگر چند دن کے بعد ہی یہ لوگ اپنا نیا میدان تلاش کرنے کے لئے امرت سر آگئے اور احمدیوں کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی۔۲۳ اپریل ۱۹۳۰ء کی رات کو ایک ایسا حادثہ پیش آیا جس نے حالات کو بد سے بد تر بنا دیا کہا جاتا ہے کہ نوشہرہ کے ایک احمدی نوجوان قاضی محمد علی صاحب گورداسپور سے بٹالہ کی طرف ایک لاری میں آرہے تھے بد قسمتی سے اس میں ”مباہلہ " والے مستری اور ان کے مددگار ایک کافی تعداد میں موجود تھے۔راستہ میں قاضی صاحب کی مباہلہ والوں سے گفتگو ہوتی رہی جس میں زیادہ تر زور انہوں نے اس بات پر دیا کہ مخالفت کی وجہ سے شرافت و انسانیت کو خیر باد نہیں کہنا چاہئے اور جھوٹے الزامات لگا کر احمدیوں کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے مگر مباہلہ والوں نے اخبار مباہلہ کا ایک پرچہ نکال کر نہایت گندے اور اشتعال انگیز فقرات سنانے شروع کر دیئے اور تصادم شروع ہو گیا۔فریق مخالف نے قاضی صاحب پر حملہ کرنے کے لئے چاقو نکال لیا یہ دیکھ کر قاضی محمد علی صاحب کو بھی چاقو نکالنا پڑا۔یہ دیکھ کر لاری میں بیٹھنے والے لوگ قاضی صاحب پر پل پڑے اور بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔ایسی حالت میں انہوں نے اپنے بچاؤ کی پوری کوشش کی لیکن انہیں بہت سے آدمیوں نے اس قدر مارا کہ بیہوش کر دیا اور انہیں معلوم نہ ہوا کہ کیا ہوا اور جب ہوش آیا تو دیکھا کہ ایک شخص (جو بعد کو مرگیا) زخمی پڑا ہے اور وہ خود دوسروں کے پنجے میں گرفتار ہیں اس کے بعد پولیس نے آکر انہیں گرفتار کر لیا۔اور ان پر قتل عمد کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کی قانونی امداد میں کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہ کیا گیا۔مگر ابتدائی عدالت نے ان کو پھانسی کا فیصلہ دیا۔اس پر ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی مگر سزا بحال رہی۔