تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 188 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 188

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 184 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال بھی ایک سہ ماہی اردو و انگریزی میگزین جاری ہوا جس کے مدیر اعلیٰ ماسٹر محمد ابراہیم صاحب بي ان تھے افسوس رسالہ جامعہ احمدیہ کی طرح یہ بھی جلد ہی بند کر دیا گیا۔اس رسالہ کے اجراء پر بھی حضور نے ایک روح پرور پیغام تحریر فرمایا جو میگزین کے پہلے شمارہ میں سرورق کے صفحہ ۲ پر شائع ہوا۔اس اہم پیغام کا متن حسب ذیل تھا :- " مجھے تعلیم الاسلام ہائی سکول کا ایک سابق طالب علم ہونے کی حیثیت سے وہری خوشی ہے کہ سکول کے طلباء ایک رسالہ اپنے اندر کام کا جوش پیدا کرنے کے لئے نکالنے لگے ہیں۔میرے نزدیک یہ رسالہ مفید ہو سکتا ہے اگر طالب علم اس کا پورا بوجھ خود اٹھا ئیں اور اسے ایسے ایک سکول میگزین سے زیادہ حیثیت نہ دیں۔میں جب چھوٹا تھا تو ہم نے ایک رسالہ شعیذ الاذہان نکالا تھا۔اور صرف ہم سات طالب علم اس رسالہ کو شائع کرتے تھے اور کسی سے مدد طلب نہیں کرتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ رسالہ اپنوں کے علاوہ غیروں میں بھی مقبول تھا۔میں امید کرتا ہوں کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے موجودہ طالب علم بھی اس رویے سے کام کریں گے اور اس رسالہ کو اپنے اندر تعلیم الاسلام کی روح پیدا کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ ان کے سکول کا نام نہایت شاندار ہے اور اس نام کے اندر ہی ان کا نام پوشیدہ ہے۔تعلیم الاسلام کو سیکھنا اور اسے دنیا میں پھیلانا یہ ان کا واحد مقصد ہونا چاہئے۔اسلام اس وقت بالکل لاوارث ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے وارث بنودہ اس وقت پامال ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے حامل بنو۔وہ اس وقت بے یار ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے کہ تم اس کے یار بنو وہ اس وقت بے وطن ہے خدا تعالیٰ نے تم کو چنا ہے۔تمہارے دل اور تمہارے گھر اس کا وطن بنیں تم زبانوں سے کئی دفعہ کہہ چکے ہو کہ ایسا ہی ہو گا مگر وقت ہے کہ ہمارے عمل بھی اس کا ثبوت دیں کوئی سپاہی بغیر مشق کے میدان جنگ میں کام نہیں دے سکتا۔نیک نیت اچھی چیز ہے مگر خالی نیک نیت خواہ کتنی ہی پختہ کیوں نہ ہو بغیر عملی قابلیت کے چنداں فائدہ نہیں دیتی۔پس زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرو۔اور اس کی تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرو۔تاکہ یہ امر تمہاری عادت میں داخل ہو جائے۔اور آپ ہی آپ ایسے اعمال ظاہر ہوتے چلے جائیں جو تعلیم الاسلام کے ظاہر کرنے والے ہوں اور آپ ہی آپ وہ کلمات نکلنے شروع ہو جا ئیں۔جو تعلیم الاسلام کی گونج پیدا کرنے والے ہوں۔اور آپ ہی آپ وہ ملفوظات قلم پر آنے لگیں جو تعلیم الاسلام کا رنگ رکھتے ہوں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور اگر بچے دل سے کوشش کرو گے تو انشاء اللہ ایسا ہی ہو گا "۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد