تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 185
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 181 خلافت ثانیہ کاسترھواں سال نقل آپ کو بھجوا رہا ہوں۔قیام حید را آباد میں سیٹھ احمد بھائی صاحب کی طرف خاص خیال رکھیں۔بہت مخلص ہیں لیکن دنیا کی طرف زیادہ رجحان ہے اور اس وجہ سے نقطہ نگاہ اور ہے ہمارے آدمی ملتے رہیں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص سلسلہ اور محبت خلافت میں ترقی دے۔نواب صاحب اگر امراء کے طریق پر چلتے وقت کوئی رقم کرایہ وغیرہ کے نام سے دیں تو ان کے سیکرٹری کی معرفت اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھ دیں کہ میں تو اپنے امام کی طرف سے سلام پہنچانے اور مزاج پرسی کے لئے آگیا تھا مگر چونکہ ہدیہ واپس کرنا بھی درست نہیں میں خدمت اسلام کے لئے یہ رقم جمع کرادوں گا تاکہ نواب صاحب کی خوشی بھی پوری ہو جائے اور ان کے لئے موجب ثواب بھی یہ میں نے احتیاطاً لکھ دیا ہے کیونکہ عام طور پر امراء کے ذہن میں علماء کے سوالی ہونے کا خیال جما ہوا ہے۔پس میلہ لطیف احمدی جماعت کے علماء کے متعلق ایسا خیال ان کے دل سے نکالنا ضروری ہے کو ممکن ہے یہ موقع ہی پیش نہ آئے۔والسلام خاکسار مرزا محمود راستہ میں اگر بمبئی میں سیٹھ اسمعیل آدم صاحب سے بھی ملتے آئیں تو اچھا ہو وہ آپ کے مضمونوں سے خاص طور پر ناراض ہیں۔آپ کو غالی سمجھتے ہیں مگر ہیں بڑے مخلص اور مجھے ان سے شدید محبت ہے شاید اللہ تعالی ان کی اصلاح کر دے۔مرزا محمود احمد " حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے مندرجہ بالا خط میں جناب نواب صاحب کے نام والے خط کی جس نقل کا ذکر ہے جو مجھے بھجوائی گئی تھی وہ حسب ذیل تھی :- نقل خط بنام نواب صاحب منگرول مکرمی و معظمی جناب نواب صاحب منگرول كان الله م السلام علیم ورم علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته ! عزیزم مولوی اللہ دتہ صاحب ہمارے نوجوان صاحب علم و عرفان علماء میں سے ہیں۔ریاست حیدر آباد بعض دینی اجتماعوں کے لئے جارہے ہیں جناب کے محبانہ تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے انہیں ہدایت کی تھی کہ واپسی پر میری طرف سے خیریت طلبی اور مزاج پرسی کرتے آئیں۔بعد میں خیال آیا کہ شاید ان دنوں آپ ریاست میں تشریف نہ رکھتے ہوں یا ان کا آنا کسی اور سبب سے قرین مصلحت نہ ہو اس لئے یہ چند حروف تحریر ہیں کہ اگر ایسا ہو تو آپ اپنے کسی