تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 184
تاریخ احمدیت جلد ۵ 180 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال ۱۴ مارچ ۱۹۳۰ء کو مہاراجہ صاحب نے اس کا افتتاح کیا۔اس تقریب پر ہزاروں نفوس شامل ہوئے مختلف والیان ریاست اور ہندوستان کے مذہبی اور سیاسی لیڈر بھی مدعو تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے نمائندہ مولوی عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے نے افتتاح کے وقت محراب مسجد کے پاس کھڑے ہو کر تقریر کی جس میں مہاراجہ صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ میں حضرت امام جماعت احمدیہ قادیان کے نمائندہ کی حیثیت سے مہاراجہ صاحب بہادر کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنی مسلمان رعایا کے لئے یہ عظیم الشان مسجد اپنے دارالحکومت میں تعمیر کرائی ہے غالبا یہ ایشیا بھر میں اپنی قسم کی پہلی ہی مثال ہے مہاراجہ صاحب نے جس فیاضی دریا دلی اور وسعت قلبی کا ثبوت اس خدا کے گھر بنانے سے دیا ہے وہ آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں اور مہذب حکومتوں کے لئے ایک قابل تقلید نمونہ ہے۔ایسے وقت میں جبکہ ہمارے بعض وطنی بھائی ہمارا اپنی مساجد میں بھی اذان دینا پسند نہیں کرتے مہاراجہ صاحب کا عین اپنے گھر میں اذانیں دلوانا اور نمازیں پڑھوانا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ مہاراجہ صاحب اپنے ملک کے نہایت ہی خیر خواہ اور بچے لیڈروں میں سے ہیں۔اور حضرت باوا نانک علیہ الرحمتہ کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔اگر ہندوستان میں ایک مذہب والے دوسرے مذہب کے متبعین کے ساتھ ایسی ہی فراخدلی اور فراخ حو صلگی سے پیش آئیں۔تو وہ دن دور نہیں کہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ سارے جہان میں حقیقی امن کی راہ نکل آئے۔اسلام کی پاک تعلیم کے مطابق کوئی شخص ایک نیکی کرے تو خدا اس کو دس نیکیوں کا اجر دیتا ہے مگر مہاراجہ صاحب نے تو صدقہ جاریہ کے طور پر ہمیشہ کے لئے یہ نہایت ہی خوبصورت اور عالی شان عمارت تعمیر کرا دی ہے"۔مولانا ابو العطاء صاحب کا سفر مانگرول مولانا ابو العطاء صاحب تحریر فرماتے ہیں۔اور حضرت مصلح موعود کے خطوط مارچ ۱۹۳۰ء کا واقعہ ہے کہ حیدر آباد دکن میں آریوں سے مناظرہ مقرر ہوا۔جب میں حضور سے اجازت لینے اور درخواست دعا کرنے کے لئے حاضر ہوا تو فرمایا کہ والتی مانگرول سے ہماری رشتہ داری بھی ہے اور وہ گزشتہ دنوں بیمار رہے ہیں آپ واپسی پر براستہ بمبئی مانگرول سے ہوتے آئیں میرا سلام بھی پہنچا دیں اور ان کی خیریت بھی پوچھ آئیں۔حیدر آباد پہنچنے پر مجھے حضور کا مندرجہ ذیل گرامی نامہ موصول ہوا:- عزیز مکرم مولوی الله و تا صاحب السلام علیکم۔نواب صاحب کو آج خط لکھ دیا ہے لیکچر کرانے کے لئے بھی اشارۃ لکھ دیا ہے ایک