تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 183
" تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 179 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال کی دعوت دی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔دین کے لئے قربانی کرنے کا خیال ہمیشہ یاد رکھنے والا خیال ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ مذہب کے لئے جو قربانی کی جائے وہ اپنا بدلہ خدا تعالٰی سے لاتی ہے تم اپنے اندر روحانیت پیدا کرد آگے اس کے نتائج تمہیں خود حاصل ہو جائیں گے۔روحانی درجے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں بعض انسانوں کو خدا تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہے کہ دنیا میں ان کی قبولیت ہو۔ایسے لوگوں کی قبولیت پھیلا دیتا ہے چنانچہ رسول کریم ال فرماتے ہیں فیوضع له القبول فی الارض رو سرا درجہ یہ ہے خداتعالی اپنے بندوں میں قبولیت نہیں پھیلا تا مگر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے ایسا انسان ولایت الہی کے اثرات محسوس کرنے لگ جاتا ہے اس طرح بھی وہ سمجھتا ہے ناکام نہیں رہا کیونکہ وہ خدا کے فضل اور نوازش اپنے او پر نازل ہوتا دیکھ لیتا ہے۔پس دین کی خدمت کرنا اور قربانی کے لئے تیار رہنا بہت بڑی بات ہے مگر اس سے بڑی بات یہ ہے کہ خدمت اور قربانی خدا کے لئے ہو بندوں کے لئے نہ ہو۔اور جب خدا کے لئے ہو گی تو انسان کی نگاہ روحانیت پر ہوگی اور وہ کامیاب ہو جائے گا لیکن جو دنیا پر نظر رکھتا ہے اس کی نگاہ مادیات پر ہوتی ہے اس پر خدا کے فیوض نازل نہیں ہوتے اور نہ وہ دنیا کے لئے مفید ہوتا ہے"۔ای روز طلباء جامعہ احمدیہ نے بھی مکرم حکیم صاحب کے اعزاز میں دعوت دی۔اس موقعہ پر حضور نے مبلغوں کو دوسری اہم نصیحت یہ فرمائی کہ :- مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر انسانیت پیدا کرے یعنی دوسروں سے مل کر کام کرنے کی اس میں اہلیت ہو ، اتحاد اور تعاون سے کام کر سکے دوسری چیز۔۔انانیت ہے اسی کا دوسرا نام تو حید ہے انسان میں ایک تو انسانیت رکھی گئی ہے۔یعنی دوسرے انسانوں سے تعلق پیدا کرنا اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا۔دوسرے انانیت ہے یعنی یہ سمجھنا کہ میرے اور میرے رب کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں۔میرا اپنے رب کے ساتھ براہ راست تعلق ہے " مہاراجہ کپور تھلہ میں ایک مسجد کی تعمیر جگجیت سنگھ صاحب والٹی کپور تھلہ اسلامی ملکوں میں بہت سفر کر چکے تھے۔ایک دفعہ انہوں نے مراکش میں قطبیہ مسجد دیکھی تو اس کا خالص عربی طرز انہیں پسند آیا اور وہیں انہوں نے ارادہ کر لیا کہ کپور تھلہ میں ایسی ہی مسجد تعمیر کراؤں گا۔چنانچہ انہوں نے واپس آکر مذہبی رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک شاندار مسجد کپور تھلہ میں تعمیر کرائی جو قطبیہ کا ہو بہوچہ یہ تھی اور جو پیرس کے ایک مشہور انجینئر کے مجوزہ نقشہ کے مطابق ساڑھے تین سال میں تعمیر ہوئی۔