تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 182 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 182

178 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال تعالے کے قائم مقام ہوتے ہیں۔اس لئے ان کے اور ان کے ماننے والوں کے درمیان بھی کوئی واسطہ نہیں ہو تا سوائے محکمانہ امور کے جو کسی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔”ندائے ایمان" کے تبلیغی اشتہارات کا اجراء اس سال حضور نے تبلیغ احمدیت پر زور دینے کے لئے جہاں ہر احمدی کو اپنے پایہ کا ایک نیا احمدی بنانے کی دوبارہ تحریک فرمائی وہاں اہل ملک تک پیغام احمد ہمت پہنچانے کے لئے اپنے قلم سے ”ندائے ایمان" کے نام سے اشتہارات کا ایک نہایت مفید سلسلہ شروع فرمایا۔جس کا پہلا نمبر آپ نے ۱۷ جنوری ۱۹۳۰ء کو لکھا جو صیغہ دعوۃ و تبلیغ کی طرف سے پوسٹر اور پمفلٹ کی صورت میں تین بار چھپوا کر چھیاسٹھ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا۔اس پہلے نمبر میں حضور نے مسلمانان عالم کو حضرت مسیح موعود کے ظہور کی نہایت موثر پیرائے میں خبر دیتے ہوئے توجہ دلائی کہ حق کو قبول کرنے میں جلدی کرنی چاہئے اور خدا کی آواز سے بے پروا ہی نہیں برتنی چاہئے کیونکہ کیا معلوم ہے کہ موت کب آجائے گی اور ہمارے اعمال کے زمانہ کو ختم کر دے گی۔۔۔آخر کونسی دلیل ہے جس کے آپ منتظر ہیں اور کو نسانشان ہے جس کی آپ کو جستجو ہے مسیح موعود کے متعلق جو کام بتایا گیا تھا وہ آپ کے ہاتھوں سے پورا ہو رہا ہے۔اور اسلام ایک نئی زندگی پا رہا ہے پس جلدی کریں اور مسیح موعود کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔لیکن اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابھی تک اس معاملہ پر غور ہی نہیں کیا تو بھی میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جلد تحقیق کی طرف متوجہ ہوں۔اور مندرجہ ذیل طریقوں میں سے ایک کو اختیار کریں۔(۱) جو سوالات آپ کے نزدیک حل طلب ہوں انہیں اپنے قریب کے احمدیوں کے سامنے پیش کر کے حل کرائیں۔(۲) اگر آپ کے پاس کوئی احمدی جماعت نہ ہو تو مجھے ان سوالات سے اطلاع دیں۔(۳) اپنے علاقہ میں جلسہ کر کے احمدی مبلغ منگوا کر خود بھی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کے دلائل سنیں۔اور دوسروں کو بھی اس کا موقعہ دیں اللہ تعالٰی آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے نور کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اس پہلے اشتہار نے جو پوسٹر کی صورت میں ملک بھر میں چسپاں کیا گیا تھا ہر جگہ ایک زبر دست حرکت پیدا کر دی۔" ندائے ایمان " کے تین مزید اشتہار بھی حضور کے قلم سے کچھ کچھ وقفے کے ساتھ شائع ہوئے۔چوتھا اشتہار اکتوبر ۱۹۳۳ء میں چھپا تھا۔مبلغین احمدیت کو نصائح ۲۴ جنوری ۱۹۳۰ء کو مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء نے حکیم فضل الرحمان صاحب کے اعزاز میں افریقہ سے واپسی پر چائے