تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 179
تاریخ احمدیت جلد ۵ (197 175 خلافت ثانیہ کا سولہواں سال ۱۳۳- روزنامہ آزادلاہور احرار نمبر۷ ۱۲ ستمبر ۱۹۵۸ء صفحہ ۷ با ۱۸۔۱۳۴- رشید نیاز صاحب نے اپنی کتاب تاریخ سیا لکوٹ میں جان مکتھر کے یہ الفاظ نقل کرنے کے بعد لکھا ہے۔یہ ہیں وہ الفاظ جو ایشیاء کے ایک شہرہ آفاق مصنف مسٹر جان کمر کی زبان سے مجلس احرار اسلام کے بارے میں جاری ہوئے ہیں اس نے احرار کو مجموعہ امداد کہہ کر جو طنز کا نشتر مارا ہے وہ مسٹر کشمیر کے لئے تو ایک تنقید کا سہارا ہے۔مگر سرفروشان احرار کے لئے باعث شرف و مباہات ایک رنجدہ چیز یہ بھی ہے کہ اس تحریک کو جتنے مخلص کارکن ملے ہیں۔اس کے لیڈر بہ تخصیص چند اتنے ہی موقع پرست ثابت ہوئے۔(صفحہ ۲۴۲ مطبوعہ ۱۹۵۸ء ناشر مکتبہ نیاز سٹریٹ ڈاکٹر فیروز الدین سیالکوٹ) ۱۳۵ پنجابی کے بہت مشہور شاعر جنہوں نے دور سالے ایک پنجابی میں اور دوسرا اردو میں حضرت مسیح موعود کی تائید میں لکھے تھے ایک سو چار سال کی عمر میں فوت ہوئے آخری عمر میں بڑھاپے کی وجہ سے قادیان جانے سے معذور ہو چکے تھے اور نماز عید کے سوا سب نماز میں بستر پر ہی ادا کر سکتے تھے حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی غلام حسین صاحب لاہوری اور ان کی نسبت فرمایا تھا کہ انہیں ہمارے خرچ پر قادیان لایا جائے انہیں وصیت کرنے کی ضرورت نہیں مگر افسوس ان کی وفات اچانک ہوئی اور نعش کو قادیان لے جانے کا بندوبست نہ کیا جاسکا۔( الفضل ۲۲/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۲ کالم ۳) ١٣٩- الفضل ۱۲ فروری ۱۹۲۹ء صفحہ ا کالم - سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے ۲۵/ جنوری ۱۹۲۹ء کو حضرت مولوی محمد صاحب حضرت شہامت خاں صاحب اور حضرت بابو روشن دین صاحب کا اکٹھا جنازہ پڑھایا اور حضرت مسیح موعود کے ان پرانے اور اولین صحابہ کے اخلاص و فدائیت کا ذکر نہایت تعریفی کلمات میں فرمایا۔(الفضل ۲۹/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۲ کالم ) ۱۳۷- مرحومه نهایت مخلص اور پر جوش احمدی تھیں جب حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف کی شہادت کا واقعہ ہوا تو انہوں نے نہایت صبر د استقلال کا نمونہ دکھایا اور اس کے بعد اپنی چھوٹی بڑی سب اولاد کو احمدیت کی تعلیم دینے اور اس صداقت پر پختہ کرنے میں منہمک ہو گئیں۔اپنے ایمانہ کے ۱/۳حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی ۱۹۲۶ء سے جبکہ یہ خاندان خوست سے سرحد میں آیا ہر سال سالانہ جلسہ پر تشریف لاتی تھیں۔(الفضل ۱۳/ نومبر ۱۹۳۹ء) ۱۳۸ مورخ احمدیت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی آپ کے حالات زندگی میں لکھتے ہیں۔میاں شیر محمد صاحب نے حق سمجھ لیا اور سمجھ کر قبول کر لیا یہی وہ گھڑی تھی جس نے شیر محمد یکہ بان کو ابدال بنا دیا۔اس دن کے بعد میاں شیر محمد کی حالت میں یہ تبدیلی ہوئی کہ وہ یکہ ہان مبلغ ہو گیا جب وہ اپنی سواریوں کو لے کر چلتا تو اس کا کام یہ ہو تا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشخبری سناتا اور خدا تعالٰی نے اس پر تبلیغ کے ایسے اسرار کھول دیئے کہ وہ اپنے مطلب کو نهایت سریع الفہم طریق پر مدلل کر کے پیش کرتا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا معجزہ تھا۔بر کے از زمینی آسمانی چوں مہربانی سے کنی کنی ان کی زندگی میں جب یہ انقلاب ہوا تو ان کے ساتھ مختلف قسم کی آزمائشوں اور ابتلاؤں کا دور شروع ہو گیا۔پے در پے گھوڑے خریدے اور مرگئے اور کئی قسم کے نقصان ہوئے یہاں تک کہ بعض اوقات عرصہ حیات تنگ ہو گیا مگر اس شیر نے ان مصائب میں اپنے موتی سے صدق اور اخلاص کے رشتہ کو آگے بڑھایا۔( الفضل ۱۰/ دسمبر ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم ۴) ١٣٩ الفضل ۱۶ / اپریل ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم ۲- ١٠- الفضل ۱۷ ستمبر ۱۹۲۹ء صفحہ ۲- آپ مرزا مبشر احمد صاحب ( ابن حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب) کے عقد میں آئیں۔۱۴۱ آپ حضرت سید مختار احمد صاحب مختار شاہ جہانپوری کی طرح امیر مینائی کے شاگرد تھے۔امیر مینائی کے تلامذہ کی یہ خصوصیت ہمیشہ یاد گار رہے گی کہ ان میں سے کسی نے تحریک احمدیت کی مخالفت نہیں کی۔۱۴۲- اخبار مشرق ۲۴/ جنوری ۱۹۲۹ء صفحہ ۴ کالم بحوالہ الفضل ۲۲ فروری ۱۹۲۹ء صفحہ ۴ کالم - ۱۳۳ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۱۹۶۰۱۹۴- ۱۴۴ رپورت مجلس مشاورت ۱۹۳۰ء صفحه ۲۵۱ ۱۴۵- الفضل ۹/ جولائی ۱۹۲۹ء صفحہ اکالم ۱-۲-